اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 210 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 210

تاب بدر جلد 3 210 حضرت عمر بن خطاب حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے اپنی کتاب ” تصدیق براہین احمدیہ“ میں اس اعتراض کا ذکر کر کے جواب دیا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ فیلُونَش حکیم اور فاضل اجل کی عرض پر عمر و سپہ سالار فوج نے امیر المومنین عمر خلیفہ ثانی سے اس کتب خانے کے بارے میں ارشاد پوچھا تو خلیفہ نے لکھا فی الفور جلا دیے جاویں۔چھ مہینے تک وہ حمام گرم ہوتے رہے۔آپ لکھتے ہیں یہ لوگ یہ کہتے ہیں۔یہ تو اعتراض صرف پادری صاحبان کی کاسہ لیسی کا نتیجہ ہے۔اس میں حقیقت کوئی نہیں۔والا ناظرین غور کریں۔حضرت خلیفہ اول فرماتے ہیں کہ اول یہ کہ اگر اسلام کی عادات میں یہ ہوتا تو اسلام والے پھر خلیفہ عمر اپنے عہد سعادت مہد میں یہود اور عیسائیوں کی پاک کتب کو جلاتے کیونکہ وہی دونوں مذاہب، ہاں پاک کتابوں والے مذاہب مذہب اسلام کے پہلے مخاطب تھے۔پھر مجوس پر اسلام کا پورا تسلط ہوا مگر کوئی تاریخ نہیں بتاتی کہ اسلام نے ان کی کتابیں جلائیں۔اگر یہ فعل اسلام یا خلفائے اسلام کا داب ہو تا یعنی ان کی عادت ہوتی تو اس کے ارتکاب کے اسباب ہمیشہ اسلام میں موجود ہوتے اور اسلام کو اس میں کوئی چیز مانع نہیں تھی۔حضرت خلیفہ اول فرماتے ہیں: دوسری بات یہ کہ اگر مذہبی کتابوں کا جلانا اسلامی بادشاہوں اور عوام اسلام کا کام ہو تا تو یونانی فلسفہ ، یونانی طب یونانی علوم کے ترجمے عربی زبان میں محال ہوتے۔سوئم یہ کہ اگر کتابوں کا جلانا اسلامی لوگ اختیار کرتے تو ضرور تھا کہ مکذب براہین احمدیہ ، جو براہین احمدیہ کی تکذیب کر رہا ہے ، اس کے جواب میں حضرت خلیفہ اول لکھ رہے ہیں ناں کہ اپنے ملک سے کوئی نظیر دیتے اور انہیں اسکندریہ میں سمندر پار نہ جانا پڑتا۔یہاں لکھتے کہ ہندوستان میں کون سی کتابیں جلی ہیں۔چہارم یہ کہ سات سو برس سے زیادہ اسلام نے ہندوستان میں سلطنت کی اور اس عرصہ میں بھگوت، رامائن، گیتا، مہابھارت اور ان کے مثل لنگ پران (Ling Puran)، مار گندی (Markundi) مشہور کتابیں ہیں جو آج تک مذہبی کتابیں اور مقدس پشتک یقین کی جاتی ہیں۔کسی کے جلانے کی خبر کان میں نہیں پہنچی بلکہ ان کتابوں میں سے بعض کے ترجمے ہوئے۔پس تعجب آتا ہے کہ ان ہندوؤں نے کیونکر سمجھ لیا کہ مسلمان ان کی پشتگوں کو جلاتے ہیں۔انصاف سے سوچو۔اس اعتراض کے جواب میں تصدیق براہین احمدیہ میں حضرت مولانا عبد الکریم صاحب نے بھی نوٹ لکھا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ اگر چہ اس وقت تک جبکہ اس واقعہ کی تحقیق نہ کی گئی تھی اور صحیح حالات روشنی میں نہ آئے تھے یہ الزام مسلمانوں کو دیا جاتا تھا مگر اب منصف مزاج اور حق پسند علماء میں ایسے لوگ بہت کم رہ گئے ہیں جو یہ ناحق الزام مسلمانوں کو دیتے ہوں۔اس الزام کی وجہ زیادہ تر تعصب یا ناواقفیت پر مبنی تھی اور اس وقت بھی جب یہ الزام لگانے والے کے پاس کوئی صحیح سند موجود نہ تھی یعنی اس قصہ کے بیان کرنے والے دو مورخ اس واقعہ سے پانچ سو اسی برس بعد پیدا ہوئے اور کوئی پہلی سندان کے پاس موجود نہ تھی۔سینٹ کرائے (Saint Croix) جس نے اسکندریہ کے کتب خانے کی تحقیق میں بہت سی کتابیں لکھی ہیں اس روایت کو بالکل جھوٹا ٹھہرایا ہے اور معلوم ہوا ہے کہ یہ کتابیں جولیس سیزر 363