اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 211
ب بدر جلد 3 211 حضرت عمر بن خطاب (Julius Caesar) کی لڑائی میں جل گئی تھیں۔چنانچہ پلو ٹارک (Plutarch) بھی 'لائف آف سیز ر“ میں لکھتا ہے کہ جولیس سیز رنے دشمنوں کے ہاتھوں میں پڑ جانے کے خوف سے اپنے جہازوں کو آگ لگا دی اور وہی آگ بڑھتے بڑھتے اس حد تک پہنچ گئی کہ اس نے اسکندریہ کے مشہور کتب خانہ عظیم کو بالکل جلا دیا۔ہیڈن (Haydn) نے اپنی کتاب ڈکشنری آف ڈیٹس ریلیٹنگ ٹو آل امیجز ( Dictionary of Dates Relating to all Ages) میں جہاں اس غلط روایت کو درج کیا ہے وہاں اپنی تحقیقات سے یہ نوٹ لکھا ہے ہ یہ قصہ بالکل مشکوک ہے۔حضرت عمر کا قول ”اگر وہ کتابیں مخالف اسلام ہیں تو جلا دینی چاہئیں“ مسلمانوں نے تسلیم نہیں کیا۔اس قول کو بعض نے تھیو فلش (Theophilus) اسکندریہ کے بشپ سے منسوب کیا ہے جو 391ء میں ہوا اور بعض نے اسے کارڈینل جیمینیز (Cardinal Jimenez) کے ماتھے لگایا ہے جو 1500ء میں تھا۔پھر لکھتے ہیں کہ ہمارے مشہور جو ان مرد ڈاکٹر لائتنر (Dr۔Leitner) نے اپنی کتاب سنین الاسلام میں اس غلط روایت کی پیروی کی ہے اور افسوس سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب موصوف کو اپنی تحقیقات میں دھوکا ہوا ہے۔ڈر پر صاحب، جان ولیم ڈر پر (John William Draper) نے مشہور کتاب میں پہلے اس قول کو غلط راویوں سے نقل کیا ہے لیکن بعد میں جاکر اس قول کی غلطی کو تسلیم کیا ہے اور لکھا ہے کہ در حقیقت یہ کتابیں جولیس سیزر کی لڑائی میں جل گئی تھیں اور اب کامل یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ یہ قول بالکل بے اصل اور محض فسانہ ہے۔اگر رونے کے لائق ہے تو یہ سچا واقعہ ہے، اگر جس بات پر افسوس کرنا چاہیے، رونا چاہیے تو یہ واقعہ سچا ہے کہ متعصب کارڈینل جیمینیز (Cardinal Jimenez) نے اتنی ہزار عربی قلمی کتابیں گرناڈا (Granada) کے میدانوں میں برباد کرنے والی آگ کے شعلوں کے حوالے کر دی تھیں۔جب سپین کو انہوں نے مسلمانوں سے چھینا اور عیسائیوں کا قبضہ ہوا تو وہاں غرناطہ کی لائبریری سے اتنی ہزار کتابیں انہوں نے جلائی تھیں۔یہ ہے اصل رونے کا مقام بجائے اسلام پہ الزام لگانے کے۔دیکھو۔Conflict Between Religion and Science 34اس میں یہ حوالہ درج ہے۔تو بہر حال یہ لائبریری کے جلانے کا حوالہ تھا جس کا الزام لگایا جاتا ہے۔پھر فتح بوقه و طرابلس وغیرہ کا ذکر ہے۔مصر فتح کر لینے اور وہاں امن و امان قائم ہو جانے کے بعد عمرو بن عاص مغرب کی سمت بڑھے تاکہ ادھر سے مفتوحہ علاقوں کے لیے کوئی خطرہ باقی نہ رہے۔کیونکہ برقہ اور طرابلس میں روم کی کچھ فوج قلعہ بند تھی اور موقع ملنے پر لوگوں کو ورغلانے سے وہ مصر میں مسلمانوں پر دھاوا بول سکتے تھے۔اسکندریہ اور مراکش کے درمیان جو علاقہ ہے اس کو بزقہ کہتے ہیں۔اس علاقے میں کئی شہر اور بستیاں آباد ہیں۔چنانچہ عمرو بن عاص بائیس ہجری میں اپنی فوج لے کر بزقہ کی طرف چلے۔اسکندریہ ہے بزقہ تک کا راستہ نہایت سر سبز و شاداب اور گھنی آبادی والا تھا۔اس لیے وہاں تک پہنچنے میں آپ کو دشمن کی کسی سازش کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور جب وہاں پہنچے تو لوگوں نے