اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 209
حاب بدر جلد 3 209 حضرت عمر بن خطاب کے موافق ہے تو پھر جو کچھ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے وہ ہمارے لیے کافی ہے اور ان کتابوں کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں اور اگر ان کا مواد اللہ تعالیٰ کی کتاب کے خلاف ہے تو پھر ان کتابوں کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں۔لہذا آپ ایسی کتابیں ضائع کرا دیں۔حضرت عمرو بن عاص نے اسکندریہ کے حماموں پر ان کتابوں کی چھانٹی شروع کر دی اور انہیں ان بھٹیوں میں جلا دیا۔اس طرح وہ کتابیں چھ ماہ میں ختم ہو گئیں۔اس روایت کا ذکر نہ تاریخ طبری میں ہے نہ ابن اثیر میں ہے ، نہ یعقوبی اور کینڈی میں ، نہ ابن عبد الْحَكَم اور بلاذری میں اور نہ ہی ابنِ خلدون نے اس کا ذکر کیا ہے۔صرف ابو الفرنج نے تیرھویں صدی عیسوی کے نصف اور ساتویں صدی ہجری کے اوائل میں کسی مصدر کا ذکر کیے بغیر اسے لکھا ہے۔پروفیسر بٹلر نے یوحنا نحوی کے بارے میں تحقیق کی اور لکھا ہے کہ وہ سن 642ء میں جس میں لائبریری کو آگ لگنے کا ذکر ہے زندہ ہی نہیں تھا۔دائرہ معارف برطانیہ نے ذکر کیا ہے کہ یوحنا پانچویں صدی کے اواخر اور چھٹی صدی کے اوائل میں زندہ تھا اور یہ بھی معلوم ہے کہ مصر ساتویں صدی کے اوائل میں فتح ہوا تھا۔اس بنا پر پروفیسر بٹلر نے درست کہا ہے کہ وہ اس وقت فوت ہو چکا تھا۔یہ یعنی جس کا حوالہ دے رہے ہیں وہ تو اس واقعہ سے جو غلط رنگ میں ہی بے شک بیان کیا جاتا ہے اس سے بہت پہلے فوت ہو چکا تھا۔پھر یہ کہ ڈاکٹر حسن ابراہیم حسن نے پروفیسر اسماعیل کی سند سے اپنے رسالے ” تاریخ عمر و بن عاص “ میں یہ تحریر کیا ہے کہ اس وقت دار کتب اسکندریہ یعنی اسکندریہ کی جو لائبریری تھی وہ موجود ہی نہیں تھی کیونکہ اس کے دو حصوں میں سے ایک بڑے حصے کو ٹولیوس قیصر (جولیس قیصر، جولیس سیزر (Julius Caesar)) کے لشکروں نے بلا قصد ، بغیر کسی مقصد کے اور بلا وجہ سن 47 ق م میں جلا دیا تھا اور اس کی دوسری قسیم بھی اسی طرح مذکورہ زمانے میں معدوم ہو گئی تھی اور یہ واقعہ نیوفل (Tcoill) پادری کے حکم پر چوتھی صدی میں ہوا۔پروفیسر بٹلر لکھتا ہے کہ ابوالفرج کا قصہ تاریخی اساس سے محض بے سروپا ہے اور مضحکہ خیز ہے۔اگر کتا بیں جلائی ہو تیں تو وہ مختصر سی مدت میں ایک دفعہ ہی جل سکتی تھیں اور اگر وہ چھ ماہ میں جلائی گئیں تو ان میں سے بہت سی چوری بھی ہو سکتی تھیں۔عربوں کے متعلق معروف نہیں کہ انہوں نے کسی چیز کو تلف کیا ہو۔گبن (Gibbon) نے لکھا ہے کہ اسلامی تعلیمات اس روایت کی مخالفت کرتی ہیں کیونکہ اس کی تعلیمات تو یہ ہیں کہ جنگ میں یہودیوں اور عیسائیوں کی ملنے والی کتب کو جلانا جائز نہیں اور جہاں تک علم، فلسفہ ، شعر اور دین کے دیگر علوم کی کتب کا تعلق ہے تو اسلام نے ان سے استفادہ کرنا جائز قرار دیا ہے۔مسلمانوں نے مفتوحہ علاقوں میں گرجوں اور ان کی متعلقہ چیزوں کو نقصان پہنچانے سے منع کیا بلکہ ذمیوں کو بھی حریت دینیہ کی اجازت دی تھی تو کیا عقل تسلیم کر سکتی ہے کہ امیر المومنین، اسکندریہ کا کتب خانہ جلا دینے کا حکم دیں گے۔362