اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 200
حاب بدر جلد 3 200 حضرت عمر بن خطاب حضرت مصلح موعود ایک موقع پر ایک تقریر میں تبلیغ کے بارے میں جب بیان فرمارہے تھے تو اس وقت حضرت عمرؓ کے زمانے کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وفات کے بعد جو لڑائیاں ہوئی ہیں ان میں اکثر اوقات مسلمانوں کی قلت ہوتی تھی۔شام کی لڑائی میں سپاہیوں کی بہت کمی تھی۔حضرت ابوعبیدہ نے حضرت عمر کو لکھا کہ دشمن بہت زیادہ تعداد میں ہے۔اس لئے اور فوج بھیجنے کا بندوبست فرما دیں۔حضرت عمرؓ نے جائزہ لیا تو آپ کو نئی فوج کا بھرتی کرنا ناممکن معلوم ہوا کیونکہ عرب کے ارد گرد کے قبائل کے نوجوان یا تو مارے گئے تھے یاسب کے سب پہلے ہی فوج میں شامل تھے۔آپ نے مشورہ کے لئے ایک جلسہ کیا اور اس میں مختلف قبائل کے لوگوں کو بلایا اور ان کے سامنے یہ معاملہ رکھا۔انہوں نے بتایا کہ ایک قبیلہ ایسا ہے جس میں کچھ آدمی مل سکتے ہیں۔حضرت عمرؓ نے ایک افسر کو حکم دیا کہ وہ فوراً اس قبیلہ میں سے نوجوان جمع کریں اور حضرت ابو عبیدہ کو لکھا کہ چھ ہزار سپاہی تمہاری مدد کے لئے بھیج رہا ہوں جو چند دنوں تک تمہارے پاس پہنچ جائیں گے۔تین ہزار آدمی تو فلاں فلاں قبائل میں سے تمہارے پاس پہنچ جائیں گے اور باقی تین ہزار کے برابر عمر و بن مَعْدِی گرب کو بھیج رہاہوں۔“ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ”ہمارے ایک نوجوان کو اگر تین ہزار آدمی کے مقابلہ میں بھیجا جائے تو وہ کہے گا کہ کیسی خلاف عقل بات ہے۔کیا خلیفہ کی عقل ماری گئی ہے۔ایک آدمی کبھی تین ہزار کا مقابلہ کر سکتا ہے! لیکن ان لوگوں کے ایمان کتنے مضبوط تھے۔حضرت ابو عبیدہ کو حضرت عمر کا خط ملا تو انہوں نے خط پڑھ کر اپنے سپاہیوں سے کہا خوش ہو جاؤ کل عمر و بن مغیی گرب تمہارے پاس پہنچ جائے گا۔سپاہیوں نے اگلے دن بڑے جوش کے ساتھ عمر و بن مَعْدِی گرب کا استقبال کیا اور نعرے لگائے۔دشمن سمجھا کہ شاید مسلمانوں کی مدد کے لئے لاکھ دو لاکھ فوج آرہی ہے اس لئے وہ اس قدر خوش ہیں حالانکہ وہ اکیلے عمرو بن معدی گرب تھے۔اس کے بعد وہ تین ہزار فوج بھی پہنچ گئی اور مسلمانوں نے دشمن کو شکست دی حالانکہ تلوار کی لڑائی میں ایک آدمی تین ہزار کا کیا مقابلہ کر سکتا ہے۔“ فرماتے ہیں کہ زبان کی لڑائی میں تو ایک آدمی بھی کئی ہزار لوگوں کو اپنی بات پہنچا سکتا ہے مگر وہ لوگ خلیفہ وقت کی بات کو اتنی اہمیت دیتے تھے کہ حضرت عمرؓ نے عمرو بن معدی گرب کو تین ہزار سپاہیوں کا قائم مقام بنا کر بھیجا تو سپاہیوں نے یہ اعتراض نہیں کیا کہ اکیلا آدمی کس طرح تین ہزار کا مقابلہ کر سکتا ہے بلکہ اسے تین ہزار کے برابر ہی سمجھا اور بڑی شان و شوکت سے اس کا استقبال کیا۔مسلمانوں کے اس استقبال کی وجہ سے دشمن کے دل ڈر گئے اور وہ یہ سمجھے کہ شاید لاکھ دولاکھ فوج مسلمانوں کی مدد کو آگئی ہے اس لئے میدانِ جنگ سے ان کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ شکست کھا کر بھاگ نکلے۔آپؐ فرماتے ہیں کہ ”سر دست ہمیں بھی اس طرح اپنے دل کو اطمینان دینا ہو گا۔“341 یہ آپ بتارہے تھے کہ یورپ میں سپین میں اور سلی وغیرہ میں تبلیغ کس طرح کرنی ہے۔اس