اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 199 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 199

حاب بدر جلد 3 199 حضرت عمر بن خطاب کے لیے ان کے مختلف شہروں میں چلے گئے اور حضرت عمرؓ نے حمص کے ارادے سے مدینہ چھوڑا اور جابیہ میں فروکش ہوئے۔اہل جزیرہ نے حمص کا محاصرہ کرنے میں رومیوں کا ساتھ دیا۔انہیں عراق سے اسلامی فوج کی آمد کی اطلاع ہو گئی لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ یہ فوج ہمارے شہر جزیرہ پر حملہ کرے گی یا حمص پر اس لیے وہ اپنے شہر اور اپنے بھائیوں کی حفاظت میں لگ گئے اور رومیوں کا ساتھ چھوڑ دیا۔ایک دن حضرت ابو عبیدہ جب سو کر اٹھے تو معلوم ہوا کہ جزیرے کے قبائل اپنے ملک واپس چلے گئے ہیں اور ان کے مقابلے پر صرف ہر قل کا لشکر رہ گیا ہے۔انہوں نے اپنی فوج سے سر داروں کو بلا کر کہا کہ وہ رومیوں کے مقابلہ کے لیے میدان میں نکلنا چاہتے ہیں۔یہ سن کر حضرت خالد بن ولید بہت خوش ہوئے اور کہا کہ اس سے پہلے کہ رومی اس نئی صورت حال کا کوئی انتظام کریں ان پر فور أحملہ کر دینا چاہیے۔حضرت ابو عبیدہ نے لشکر کے سپاہیوں سے ایک جوشیلا خطاب کیا اور فرمایا مسلمانو ! آج جو ثابت قدم رہ گیا وہ اگر زندہ بچا تو ملک و مال اس کو ملے گا اور اگر مارا گیا تو شہادت کی دولت ملے گی اور میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ لی لی یکم نے فرمایا ہے کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ مشرک نہ ہو تو وہ ضرور جنت میں داخل ہو گا۔فوج پہلے ہی سے حملے کرنے کے لیے بے قرار تھی۔ابو عبیدہ کی تقریر نے اور بھی گرما دیا اور دفعہ سب نے ہتھیار سنبھال لیے۔حضرت ابو عبیدہ قلب فوج اور حضرت خالد بن ولید میمنہ اور حضرت عباس میسرہ کو لے کر بڑھے۔دونوں گروہوں میں جنگ ہوئی تو مسلمانوں کے مقابلے میں تھوڑی ہی دیر میں رومیوں کے پیر اکھڑ گئے اور وہ شکست کھا گئے۔جب قعقاع بن عمرو کوفہ کی فوج کے ساتھ حمص پہنچے تو لڑائی ختم ہوئے تین دن گزر چکے تھے۔دوسری طرف حضرت عمرؓ شام کے رستے میں جابیہ پہنچے ہی تھے کہ حضرت ابو عبیدہ کا قاصد ملا اور اس نے بیان کیا کہ قعقاع کے جمص پہنچنے سے تین دن پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو رومیوں پر فتح یاب کر دیا ہے اور رائے معلوم کی کہ قعقاع اور اس کی فوج کو مال غنیمت میں سے حصہ دیا جائے یانہ دیا جائے۔حضرت عمر فطمئن ہو گئے اور اس خبر کے بعد سفر جاری رکھنے کی ضرورت محسوس نہیں فرمائی۔وہیں سے حضرت امین الامت ابو عبیدہ کو خط لکھا کہ اہل کوفہ کو مال غنیمت کی تقسیم میں شریک کیا جائے کیونکہ ان کی آمد کی خبر ہی نے دشمن کے دل پر رعب طاری کیا تھا جس کی وجہ سے اس نے شکست کھائی۔اللہ کوفہ والوں کو جزائے خیر دے کہ اپنے علاقے کی حفاظت اور دوسرے شہر والوں کی اعانت کرتے ہیں اور اس کے بعد مدینہ کی طرف کوچ فرما دیا۔اس شکست کے بعد قیصر پر اتنی مایوسی چھا گئی کہ وہ پھر کبھی شام کا رخ نہ کر سکا۔ادھر باغیوں کو جب معلوم ہوا کہ رومی فوجیں جہازوں میں بیٹھ کر فرار ہو گئی ہیں تو ان کی بغاوت بھی اپنی موت آپ مر گئی۔یہ سترہ ہجری کا واقعہ ہے۔اس کے تین سال بعد هر قل120 ہجری کو 641 عیسوی میں فوت ہو گیا۔340