اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 156
صحاب بدر جلد 3 156 ا حضرت عمر بن خطاب روانہ ہو گئے۔بالآخر بلخ میں اہل کوفہ کی افواج اور یزدجرد کی افواج کا سامنا ہوا اور فریقین کے درمیان مقابلہ ہوا۔نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ نے یزدجرد کو مات دے دی اور وہ ایرانیوں کو لے کر دریا کی طرف روانہ ہوا اور دریا پار کر کے بھاگ گیا۔اتنے میں احنف بن قیس بھی کوفہ کی فوجوں کے ساتھ آملے۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں بلی کو فتح کرادیا۔اس لیے بلخ اہل کوفہ کی فتوحات میں شامل تھا۔اس کے بعد خُراسان کے وہ باشندے جو بھاگ گئے تھے یا قلعہ بند ہو گئے تھے اور نیشا پور سے لے کر تخارستان کے باشندے سب صلح کے لیے آنے لگے۔طخارستان : یہ جو علاقہ ہے یہ بہت سے شہروں پر مشتمل ہے اور یہ خُراسان کے نواح میں ہے۔اس کا سب سے بڑا شہر طالقان ہے۔اس کے بعد احنف بن قیس واپس مرور وز چلے گئے اور وہاں رہنے لگے۔البتہ ربعی بن عامر جو عرب کے شرفاء میں سے تھے ان کو طخارستان میں اپنا جانشین بنایا۔احنف بن قیس نے حضرت عمر کو فتح خُراسان کی خبر لکھ کر بھجوائی۔فتح خُراسان کی خبر سن کر حضرت عمرؓ نے فرمایا: میں چاہتا تھا کہ ان کے خلاف کوئی لشکر نہ بھیجا جاتا اور میری خواہش تھی کہ ان کے اور ہمارے درمیان آگ کا سمند ر حائل ہو تا۔یہ کہتے ہیں جی زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتے تھے، ملکوں پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔لیکن حضرت عمر کی یہ خواہش تھی کہ میں فوج نہیں بھیجنا چاہتا تھا۔حضرت علی نے حضرت عمرؓ کی یہ بات سن کے فرمایا۔اے امیر المومنین! آپ یہ بات کیوں فرماتے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا: اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کے باشندے تین مرتبہ عہد شکنی کریں گے اور معاہدہ کو توڑیں گے اور تیسری مرتبہ ان کو مغلوب کرنے کی ضرورت ہو گی۔ایک روایت میں اس طرح ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمرؓ کے پاس فتح خراسان کی خبر پہنچی تو وہ فرمانے لگے میں چاہتا ہوں کہ ہمارے اور ان کے در میان آگ کا سمند ر حائل ہو تا۔اس بات پر حضرت علی نے فرمایا اے امیر المومنین! یہ تو خوشی کا مقام ہے۔آپ کو کیا پریشانی ہے؟ فتح ہو گیا اور آپ کہتے ہیں روک پیدا ہو جاتی۔حضرت عمرؓ نے فرمایا ہاں خوشی کی بات ہے مگر پریشان اس بات پر ہوں کہ یہ لوگ تین مرتبہ عہد شکنی کریں گے۔ایک روایت میں ہے کہ جب حضرت عمر کو یہ اطلاع ہوئی کہ احنف بن قیس کا مزو کے دونوں شہروں پر قبضہ ہو گیا ہے اور انہوں نے بلخ بھی فتح کر لیا ہے تو آپ نے فرمایا احنف بن قیس اہل مشرق کے سردار ہیں۔پھر آخحنف بن قیس کو یہ تحریر کیا کہ تم دریا عبور نہ کرنا بلکہ تم اس سے پہلے کے علاقے میں مقیم رہو۔جن خصوصیات کے ساتھ تم خُراسان میں داخل ہوئے تھے آئندہ بھی تم ان عادات پر قائم رہنا۔اس طرح فتح و نصرت ہمیشہ تمہارے قدم چومے گی البتہ تم دریا کو عبور کرنے سے پر ہیز کرو ور نہ تم نقصان اٹھاؤ گے۔284 يَزْدَجَر د نے پہلے اپنے ہمسایہ ممالک کو مدد کے لیے بلایا تھا۔اس وقت تو ان ممالک نے کوئی خاص امداد نہیں کی مگر اب یزد جرد خود اپنی مملکت سے بھاگ کر ان کے پاس مدد کا طالب ہوا اور ان ممالک