اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 155 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 155

اصحاب بدر جلد 3 155 حضرت عمر بن خطاب وجوہات کی بنا پر امیر المومنین حضرت عمرؓ نے مسلمانوں کو اجازت دے دی کہ وہ ایران کے علاقوں میں پیش قدمی کر کے اس کے اندر گھس جائیں۔چنانچہ اہل کو فہ اور اہل بصرہ روانہ ہوئے اور انہوں نے ان کی سرزمین پر پہنچ کر زبر دست حملے شروع کر دیے۔احنف بن قیس خُراسان کی طرف روانہ ہوئے۔راستے میں انہوں نے مہر جان قدش پر قبضہ کر لیا۔مهرجان قلفی جو ہے یہ حلوان سے لے کر ہمدان تک پہاڑوں کے درمیان کا ایک وسیع علاقہ ہے جو کئی شہروں اور بستیوں پر مشتمل تھا۔پھر مزید آگے بڑھتے ہوئے آصبھان کی طرف روانہ ہوئے تو اس وقت اہل کوفہ ” بھی " کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔بجھی بھی اصبہان کے نواح میں ایک قدیم شہر کا نام تھا جو آج کل تقریب ویران ہے۔عجم میں اس کو شہر نشان کہا جاتا ہے۔اس لیے وہ طبسان کے راستے خُراسان میں داخل ہوئے اور ہرات پر بزور شمشیر قبضہ کر لیا۔طبان ایک نواحی قصبہ ہے جو نیشا پور اور آصبحان کے درمیان واقع ہے۔فارس میں اسے مفرد کے طور پر طبس پڑھتے ہیں۔هَرَاتُ خُراسان کے مشہور شہروں میں سے ایک عظیم اور مشہور شہر ہے۔انہوں نے وہاں صحار بن فُلاں عبدی کو اپنا جانشین بنایا اور پھر مزید آگے بڑھتے ہوئے مَرُ وشَاہ جَهَاں کی طرف روانہ ہوئے۔مَروشَاهِ جَهَاں خُراسان کے شہروں اور قصبوں میں سب سے مشہور ہے۔یہ نیشا پور سے 210 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔اس دوران در میان میں کسی سے کوئی جنگ نہیں ہوئی۔اس لیے نیشا پور کی طرف مطرف بن عبد اللہ بن شیخیر کو بھیجا اور ستر خش کی طرف حارث بن حسان کو روانہ کیا۔سرخش بھی خُراسان کے نواح میں ایک پرانا اور بڑا شہر ہے جو نیشا پور اور مرو کے درمیان واقع ہے۔بہر حال جب آخنف بن قیس مَرُوشَاهِ جَهَاں کے قریب پہنچا تو یز دَجَرد مَرُورُود چلا گیا اور وہاں رہنے لگا۔مرور و ذ جو ہے اس کا یہ نام اس لیے ہے کہ مزو اس سفید پتھر کو کہتے ہیں جس میں آگ جلائی جاتی ہے۔نہ وہ سیاہ ہوتا ہے اور نہ سرخ اور روز فارسی میں دریا کو کہتے ہیں گویا یہ دریا کا مرد ہوا۔یہ مَرُ وشَاهِ جَهَاں سے پانچ دن کی مسافت پر ایک بہت بڑے دریا پر واقع ہے۔احنف بن قیس مَرُوشَاهِ جَهَاں میں فروکش ہو گئے۔يَزْدَجَرد نے مَرُورُود پہنچنے کے بعد خوف کے مارے مختلف حاکموں کے پاس امداد کی درخواست کی۔اس نے خاقان سے بھی امداد کی درخواست کی۔شاہِ صُغر کو بھی تحریر کیا کہ فوج کے ذریعہ اس کی مدد کی جائے۔صغر وہ علاقہ ہے جس میں سمرقند اور بخارا وغیرہ واقع ہیں۔نیز اس نے شہنشاہ چین سے بھی امداد کی درخواست کی۔احنف بن قیس نے مرُ وشَادِ جَهَاں پر حَارِثَہ بن نعمان باھلی کو اپنا جانشین مقرر کیا اور اس عرصہ میں کوفہ کی فوجیں ان کے چاروں سرداروں کی قیادت میں احنف بن قیس کے پاس پہنچ گئیں۔جب تمام فوجیں مَروشَادِ جَهَاں آگئیں تو احنف بن قیس نے مَرُوشَادِ جہاں سے مَرُورُوڈ کی طرف فوج کشی کی۔جب یزد جرد کو یہ خبر ملی تو وہ بلخ کی طرف روانہ ہو گیا۔بلخ بھی دریائے جیحون کے قریب خُراسان کا ایک خوبصورت شہر تھا چنانچہ احنف بن قیس مَرُورُود میں مقیم ہو گئے۔جب کوفہ کی فوجیں براہ راست بلخ روانہ ہو گئیں تو پھر احنف بن قیس بھی ان کے پیچھے