اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 81 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 81

اصحاب بدر جلد 3 81 حضرت عمر بن خطاب ساتھ ملی ہوتی تھی۔لوگوں نے ایک روز اونٹ ذبح کر کے لوگوں کو کھلائے۔انہوں نے حضرت عمرؓ کے لیے عمدہ حصہ رکھ لیا۔جب حضرت عمرؓ کے پاس وہ حصہ لایا گیا تو اس میں کو ہان اور کلیجی کے ٹکڑے تھے۔حضرت عمرؓ نے دریافت فرمایا کہ یہ کہاں سے آئے؟ تو بتایا گیا کہ اے امیر المومنین! یہ ان اونٹوں سے ہے جو آج ہم نے ذبح کیے تھے۔آپؐ نے فرمایا افسوس! افسوس! میں کیا ہی بُر ا نگران ہوں گا اگر اس کا اچھا حصہ میں کھاؤں اور لوگوں کو اس کا رڈی حصہ کھلاؤں۔یہ پیالہ اٹھالو اور ہمارے لیے اس کے علاوہ کوئی اور کھا نالا ؤ۔چنانچہ روٹی اور زیتون کا تیل لایا گیا۔آپ نے روٹی اپنے ہاتھ سے توڑی اور اس سے شرید بنایا۔پھر آپ نے اپنے غلام سے فرمایا۔اے یز فا! تمہارا بھلا ہو یہ پیالہ شمع میں ایک گھر والوں کے پاس لے جاؤ۔تمع بھی مدینہ کے قریب کھجوروں کا ایک باغ تھا جس کے مالک حضرت عمرؓ تھے۔انہوں نے اس باغ کو وقف کیا ہوا تھا۔حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ تین دن سے میں نے ان کو کچھ نہیں دیا اور میر اخیال ہے کہ وہ خالی پیٹ ہوں گے۔یہ ان کے سامنے پیش کر دو۔حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ قحط کے دنوں میں حضرت عمر نے ایک نیا کام کیا جسے وہ پہلے نہ کیا کرتے تھے اور وہ یہ تھا کہ لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھا کر اپنے گھر میں داخل ہو جاتے اور آخر شب تک مسلسل نماز پڑھتے رہتے۔پھر آپ باہر نکلتے اور مدینہ کے اطراف میں چکر لگاتے رہتے۔ایک رات سحری کے وقت میں نے ان کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اللهُمَّ لَا تَجْعَلْ هَلَاكَ أُمَّةٍ مُحَمَّدٍ عَلَى يَدَتَى کہ اے اللہ ! میرے ہاتھوں محمد صلی الی یکم کی امت کو ہلاکت میں نہ ڈالنا۔محمد بن یحیی بن حبان بیان کرتے ہیں کہ قحط کے ایام میں حضرت عمرؓ کے پاس ایک دفعہ چربی میں ڈوبی ہوئی روٹی لائی گئی۔آپ نے ایک بدوی کو اپنے پاس بلایا اور وہ آپ کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے لگا۔وہ جلدی جلدی پیالے کے کناروں سے چربی لینے لگا۔اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا۔تم تو ایسے کھا رہے ہو جیسے کبھی چربی نہیں دیکھی۔اس نے کہا بے شک میں نے کئی دنوں سے نہ گھی کھایا ہے اور نہ زیتون اور نہ ہی کسی کو یہ کھاتے دیکھا ہے۔یہ بات سن کر حضرت عمر نے قسم کھائی کہ وہ نہ تو گوشت چکھیں گے اور نہ ہی تھی یہاں تک کہ لوگ پہلے کی طرح خوشحال ہو جائیں۔ابن طاؤس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے نہ گوشت کھایا اور نہ ہی کبھی یہاں تک کہ لوگ خوشحال ہو گئے اور گھی وغیرہ نہ کھانے اور صرف تیل کھانے کی وجہ سے آپ کا پیٹ گڑ گڑاتا تھا۔آپ کہتے یعنی اپنے پیٹ کو مخاطب کر کے کہ تم گڑ گڑاتے رہو۔اللہ کی قسم ! تمہیں کچھ اور نہیں ملے گا تاوقتیکہ لوگ خوشحال نہ ہو جائیں اور پہلے جیسا کھانا شروع نہ کر دیں۔عیاض بن خلیفہ کہتے ہیں کہ میں نے قحط کے سال حضرت عمر ہو دیکھا۔آپ کا رنگ سیاہ ہو گیا تھا حالانکہ پہلے آپ کا رنگ سفید تھا۔ہم کہتے یہ کیسے ہوا تو راوی نے بتایا کہ حضرت عمر ایک عربی آدمی تھے۔وہ گھی اور دودھ کا استعمال کرتے تھے۔جب لوگوں پر قحط آیا تو انہوں نے یہ چیزیں اپنے اوپر حرام کر لیں یہاں تک کہ لوگ خوشحال ہو جائیں۔حضرت عمرؓ نے تیل کے ساتھ کھانا کھایا جس سے آپ