اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 82 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 82

اصحاب بدر جلد 3 82 حضرت عمر بن خطاب کارنگ تبدیل ہو گیا اور جب فاقہ کشی کی تو یہ رنگ مزید تبدیل ہو گیا۔اسامہ بن زید بن اسلم نے اپنے دادا سے روایت کی کہ ہم لوگ کہا کرتے تھے کہ اگر اللہ نے قحط رفع نہ کیا تو حضرت عمرؓ مسلمانوں کی فکر میں مر ہی جائیں گے۔زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ قحط کے زمانے میں سارے عرب سے لوگ مدینہ آئے۔حضرت عمرؓ نے لوگوں کو حکم دیا تھا کہ وہ ان کا انتظام کریں اور انہیں کھاناکھلائیں۔مدینہ کے چاروں طرف حضرت عمرؓ نے مختلف اصحاب کی ڈیوٹی لگادی تھی جو ایک ایک لمحہ کی خبر شام کو جمع ہو کر آپ کو دیتے تھے۔صبح سے لے کے شام تک جو خبریں بھی ہوتی تھیں شام کو آپ کے پاس لائی جاتی تھیں۔آپ کو وہ خبریں پہنچائی جاتی تھیں۔مدینہ کے مختلف علاقوں میں بدوی لوگ آئے ہوئے تھے۔ایک رات جب لوگ رات کا کھانا کھا چکے تو حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ جنہوں نے ہمارے ساتھ رات کا کھانا کھایا ہے ان کا شمار کر و۔چنانچہ ان کا شمار کیا گیا تو سات ہزار کے قریب افراد تھے۔پھر آپ نے فرمایا کہ جو نہیں آئے انہیں اور مریضوں اور بچوں کو بھی شمار کرو۔جب گنتی کی گئی تو وہ چالیس ہزار کی تعداد تھی۔چند دن بعد یہ تعداد بڑھ گئی۔دوبارہ گنتی کی گئی تو جو لوگ آپ کے ساتھ کھانا کھارہے تھے ان کی تعداد دس ہزار اور دوسروں کی تعداد پچاس ہزار ہو گئی۔اسی طرح سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے بارش نازل فرما دی۔جب بارش ہوئی تو میں نے حضرت عمر کو دیکھا کہ آپ نے اپنے عاملین کو حکم دیا کہ سب لوگوں کا ان کے اپنے اپنے علاقے میں واپسی کا انتظام کریں اور انہیں غلہ اور سواریاں بھی مہیا کریں۔راوی کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ حضرت عمر بنفس نفیس ان لوگوں کو روانہ کرنے کے لیے آتے تھے۔50 ارد گرد کے لوگ بھوک سے تنگ آ کے شہر میں آگئے تھے۔کھانا ان کو یہاں ملتا تھا۔جب حالات ٹھیک ہو گئے ، بارشیں ہو گئیں اور زراعت وغیرہ ہو سکتی تھی تو پھر آپ نے کہا واپس جاؤ اور محنت کرو اور اپنی کھیتیوں کو آباد کرو۔تاریخ طبری میں اس قحط کے ختم ہونے کے متعلق لکھا ہے کہ ایک شخص نے خواب دیکھا جس کے مطابق آنحضرت صلی اللہ ﷺ نے دعا کی طرف توجہ دلائی جس پر حضرت عمرؓ نے لوگوں میں اعلان کرایا کہ نماز استسقاء پڑھی جائے گی۔حضرت عمر نے فرمایا: مصیبت اپنے انتہا کو پہنچ چکی اور اب ان شاء اللہ ختم ہونے والی ہے۔جس قوم کو دعا کی توفیق مل گئی پس سمجھ لینا چاہیے کہ ان کی مصیبت دور ہو گئی۔آپ نے دیگر شہروں کے گورنروں کے نام خط تحریر فرمائے کہ تم مدینہ اور ان کے اطراف کے بندگان خدا کے لیے نماز استسقاء پڑھو کیونکہ وہ مصیبت کی انتہا کو پہنچ گئے ہیں۔حضرت عمرؓ نے مسلمانوں کو نماز استسقاء کے لیے باہر میدان میں جمع کیا اور حضرت عباس کو لے کر حاضر ہوئے، مختصر خطبہ پڑھا اور نماز پڑھائی پھر دو زانو ہو کر بیٹھے اور دعا شروع کی۔اللَّهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَارْضَ عَنَّا۔اے اللہ ! ہم