اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 80 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 80

اصحاب بدر جلد 3 80 حضرت عمر بن خطاب چوہوں وغیرہ کے بلوں کو کھودتے اور اس میں جو ہو تا اسے نکالنے لگے۔حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے حضرت عمرو بن عاص کی طرف عام الرمادۃ میں خط لکھا: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اللہ کے بندے عمر امیر المومنین کی طرف سے عاصی بن عاصی کے نام۔تم پر سلامتی ہو۔اما بعد۔کیا تم مجھے اور ان لوگوں کو مرتا ہوا دیکھنا چاہتے ہو جو میرے پاس ہیں اور تم زندہ ہو اور وہ لوگ جو تمہارے پاس ہیں وہ بھی زندہ ہوں۔کیا کوئی مدد کرنے والا ہے ؟ یہ آپ نے تین دفعہ لکھا اس پر۔مد دامد دامد د! اس کے جواب میں حضرت عمرو بن عاص نے لکھا: بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ اللہ جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اس کے بندے کی طرف۔اما بعد۔آپ کے پاس مدد پہنچ گئی۔کچھ دیر انتظار فرمائیں۔میں آپ کی طرف اونٹوں کا ایک قافلہ بھیج رہا ہوں جس کا پہلا اونٹ آپ کے پاس ہو گا اور اس کا آخری اونٹ میرے پاس ہو گا یعنی اتنا بڑا قافلہ ہو گا۔ایک لمبی قطار ہو گی۔والی کمصر حضرت عمرو بن عاص نے اناج اور غلہ کے ایک ہزار اونٹ بھیجے۔گھی اور کپڑے وغیر ہ اس کے علاوہ تھے۔والی عراق حضرت سعد نے دو ہزار اونٹ اناج اور غلے کے بھیجے۔کپڑے وغیرہ اس کے علاوہ تھے۔والی کشام حضرت امیر معاویہ نے تین ہزار اونٹ غلے کے بھیجے اور کپڑے وغیرہ اس کے علاوہ تھے۔جب پہلا غلہ آیا تو حضرت عمر بن خطاب نے حضرت زبیر بن عوام سے فرمایا۔تم قافلے کو روک کر اہل بادیہ کی طرف پھیر دو۔یعنی جو گاؤں کے رہنے والے ہیں ان کی طرف پھیر دو۔ان کو پہلے دو اور ان لوگوں میں تقسیم کر دو۔بخدا ممکن ہے رسول اللہ علی یلم کی صحبت کے بعد اس سے افضل کوئی ھے تمہیں حاصل نہ ہوئی ہو گی۔اس کے بوروں سے لحاف بنا دو جسے وہ لوگ پہنیں اور اونٹوں کو ان کے لیے ذبح کر دینا۔وہ لوگ گوشت کھائیں اور اس کی چکنائی اٹھا کر لے جائیں۔تم انتظار نہ کرنا کہ وہ کہیں کہ ہم لوگ بارش کے آنے تک انتظار کریں گے۔وہ لوگ آثار پکائیں اور جمع کریں یہاں تک کہ اللہ ان کے لیے کشادگی کا حکم لائے۔یعنی کچھ پکائیں، کھائیں اور کچھ جو ہے وہ سٹور بھی کر لیں۔حضرت عمر کھانا تیار کرواتے اور ان کا منادی اعلان کرتا کہ جو شخص چاہتا ہے کہ وہ کھانے کے وقت حاضر ہو اور کھانا چاہے تو وہ ضرور ایسا کرے۔اور جو پسند کرتا ہے کہ جو کھانا اس کے لیے اور اس کے گھر والوں کے لیے کفایت کرے تو وہ آئے اور وہ لے جائے۔حضرت عمر لوگوں کو ثرید ، یعنی روٹی کو توڑ کر شور بہ میں ڈال کر جو کھانا تیار ہوتا ہے وہ کھلاتے تھے۔یہ روٹی ہوتی تھی جس کے ساتھ زیتون کا سالن ہوتا تھا جو فور دیگوں میں پکایا جاتا تھا۔اونٹ ذبح کیے جاتے تھے۔حضرت عمر بھی سب لوگوں کے ساتھ مل کر کھاتے تھے جس طرح وہ کھاتے تھے۔اگر اللہ نے قحط رفع نہ کیا تو حضرت عمر مسلمانوں کی فکر میں مر ہی جائیں گے عبد اللہ بن زید بن اسلم اپنے دادا اسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر مسلسل روزے رکھتے رہے۔عام الرمادۃ کے زمانے میں شام کے وقت حضرت عمرؓ کے پاس روٹی لائی جاتی جو زیتون کے تیل کے