اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 58
حاب بدر جلد 3 58 حضرت عمر بن خطاب قسم ! اور اگر انہوں نے مجھے ایک گھٹنا باندھنے والی رسی دینے سے بھی انکار کیا جو وہ رسول اللہ صلی یی کم کو دیتے تھے تو اس کے نہ دینے پر بھی ان سے لڑوں گا۔حضرت عمر بن خطاب کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! پھر میں نے دیکھا کہ اللہ نے حضرت ابو بکر کا لڑائی کے لیے سینہ کھول دیا تو میں سمجھ گیا کہ یہ حق ہی ہے۔111 لشکر اسامہ کی روانگی اور حضرت عمرؓ حضرت اسامہ بن زید کے لشکر کی روانگی کے وقت حضرت ابو بکر نے حضرت اسامہ کو بعض ہدایات فرمائیں۔حضرت اسامہ سوار تھے اور حضرت ابو بکر ان کے ساتھ پیدل چل رہے تھے۔حضرت اسامہ نے درخواست کی کہ آپ سوار ہوں وگرنہ میں بھی سواری سے اتر جاؤں گا۔حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ تم نہ اترو اور اللہ کی قسم ! میں سوار نہیں ہوں گا۔فرمایا: اور مجھے کیا ہوا ہے کہ میں اپنے پاؤں کو کچھ دیر اللہ کے راستے میں غبار آلود نہ کروں کیونکہ غازی کے ہر قدم کے عوض جو وہ اٹھاتا ہے سات سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کے ساتھ سات سو درجات بلند ہوتے ہیں اور اس کی سات سو خطائیں معاف کی جاتی ہیں۔ہدایت دینے کے بعد حضرت ابو بکر نے حضرت اسامہ سے فرمایا: اگر تم مناسب سمجھو تو عمر کے ذریعہ میری مدد کرو۔یعنی حضرت اسامہ سے عمر ہو اپنے پاس روکنے کی اجازت چاہی کیونکہ آنحضرت صلی علیم نے حضرت عمر ہو اس لشکر میں شامل فرمایا تھا۔تو حضرت اسامہ نے آپ کو اس کی اجازت دے دی۔2 جمع قرآن اور حضرت عمر 112 حضرت ابو بکر کے دور میں جنگ یمامہ میں ستر حفاظ قرآن شہید ہوئے تو اس بارے میں حضرت زید بن ثابت انصاری روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر نے مجھ کو جب یمامہ کے لوگ شہید کیے گئے بلا بھیجا اور اس وقت ان کے پاس حضرت عمرؓ تھے۔حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا: عمر میرے پاس آئے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ یمامہ کی جنگ میں لوگ بہت شہید ہو گئے ہیں اور مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اور لڑائیوں میں بھی قاری نہ مارے جائیں اور اس طرح قرآن کا بہت سا حصہ ضائع ہو جائے گا۔سوائے اس کے کہ تم قرآن کو ایک جگہ جمع کر دو اور میری رائے یہ ہے کہ آپ قرآن کو ایک جگہ جمع کریں۔حضرت ابو بکر نے فرمایا: میں نے عمر سے کہا کہ میں ایسی بات کیسے کروں جو رسول اللہ صلی الی تم نے نہیں کی ؟ عمر نے کہا اللہ کی قسم ! آپ کا یہ کام اچھا ہے۔عمر مجھے بار بار یہی کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے اس کے لیے میر اسینہ کھول دیا اور اب میں بھی وہی مناسب سمجھتا ہوں جو عمر نے مناسب سمجھا۔حضرت زید بن ثابت نے کہا اور اس وقت حضرت عمرؓ ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور خاموش بیٹھے تھے ، بات نہیں کرتے تھے۔پھر حضرت ابو بکر نے فرمایا تم جو ان عقلمند آدمی ہو اور ہم تم پر کوئی بد گمانی نہیں کرتے۔تم