اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 57 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 57

حاب بدر جلد 3 57 حضرت عمر بن خطاب حضرت ابو عبیدہ بن جراح ان کے پاس گئے۔حضرت عمرؓ بولنے لگے تو حضرت ابو بکر نے انہیں خاموش کیا۔حضرت عمرؓ کہتے تھے کہ اللہ کی قسم! میں نے جو بولنا چاہا تھا تو اس لیے کہ میں نے ایسی تقریر تیار کی تھی جو مجھے بہت پسند آتی تھی۔مجھے ڈر تھا کہ حضرت ابو بکر اس تک نہ پہنچ سکیں گے یعنی ویسا نہیں بول سکیں گے۔پھر اس کے بعد حضرت ابو بکر نے تقریر کی اور ایسی تقریر کی جو بلاغت میں تمام لوگوں کی تقریروں سے بڑھ کر تھی۔انہوں نے اپنی تقریر کے اثنا میں کہا کہ ہم امیر ہیں اور تم وزیر ہو۔انصار کو کہا تم وزیر ہو۔حباب بن منذر نے یہ سن کر کہا ہر گز نہیں۔اللہ کی قسم! ہر گز نہیں۔بخد اہم ایسا نہیں کریں گے۔ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک امیر آپ میں سے۔حضرت ابو بکرؓ نے کہا نہیں بلکہ امیر ہم ہیں اور تم وزیر ہو کیونکہ یہ قریش لوگ ( بلحاظ نسب) تمام عربوں سے اعلیٰ ہیں اور بلحاظ حسب وہ قدیمی عرب ہیں۔اس لیے عمر یا ابو عبیدہ کی بیعت کرو۔حضرت عمرؓ نے کہا نہیں۔بلکہ حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکر ھو کہا کہ ہم تو آپ کی بیعت کریں گے کیونکہ آپ ہمارے سردار ہیں اور ہم میں سے بہتر ہیں اور رسول اللہ صلی علیم کو ہم میں سے زیادہ پیارے ہیں۔یہ کہہ کر حضرت عمررؓ نے حضرت ابو بکر کا ہاتھ پکڑا اور ان سے بیعت کی اور لوگوں نے بھی ان سے بیعت کی۔جب حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکر کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کہ ہماری بیعت لیں اور ساتھ ہی حضرت عمر نے حضرت ابو بکر کی بیعت کرلی اور عرض کی کہ اے ابو بکر ! آپ کو رسول اللہ صلی العلیم نے حکم دیا تھا کہ آپ نماز پڑھایا کریں۔پس آپ ہی خلیفتہ اللہ ہیں۔ہم آپ کی بیعت اس لیے کرتے ہیں کہ آپ رسول اللہ صلی علیم کے ہم سے زیادہ محبوب ہیں۔مرتدین کے فتنہ کے بارے میں سیرت ابن ہشام میں لکھا ہے کہ جب رسول کریم صلی ایم کی وفات ہوئی تو مسلمانوں کے مصائب بڑھ گئے۔ابن اسحاق یہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ سے مجھے وہ روایت پہنچی۔آپ کہتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی الیکم کی وفات ہوئی تو عرب مرتد ہو گئے اور یہود و نصاریٰ اٹھ کھڑے ہوئے اور نفاق ظاہر ہو گیا۔110 109 حضرت عمر کا حضرت ابو بکر سے مانعین زکوۃ کے بارہ میں اظہار رائے حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی الیکم کی وفات ہوئی اور آپ کے بعد حضرت ابو بکر خلیفہ ہوئے اور عربوں میں سے جس نے کفر کرنا تھا کفر کیا تو حضرت عمر بن خطاب نے حضرت ابو بکر سے کہا کہ آپ لوگوں سے کیسے لڑیں گے جبکہ رسول اللہ صلی الیکم نے فرمایا ہے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ان لوگوں سے لڑائی کروں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار کریں یعنی جو لا إلهَ إِلَّا اللہ کا اقرار کرنے والے ہیں ان سے لڑنا نہیں ہے اور جو شخص لا اله الا اللہ کا اقرار کرے گاوہ مجھ سے اپنامال اور جان بچا لے گا سوائے کسی حق کی بنا پر اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے تو حضرت ابو بکر نے کہا: اللہ کی قسم ! جو بھی نماز اور زکوۃ کے درمیان فرق کرے گا میں اس سے لڑوں گا کیونکہ زکوۃ مال کا حق ہے اور اللہ کی