اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 59
حاب بدر جلد 3 59 حضرت عمر بن خطاب رسول اللہ صلی الم کے لیے وحی لکھا کرتے تھے۔اس لیے قرآن جہاں جہاں ہو تلاش کرو اور اس کو لے کر ایک جگہ جمع کر دو۔حضرت زید بن ثابت کہتے ہیں اور اللہ کی قسم ! اگر وہ پہاڑوں میں سے کسی پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کا مجھے مکلف کرتے تو مجھ پر یہ کام اتنا بو جھل نہ ہو تا جتنا کہ یہ کام جس کے کرنے کے لیے انہوں نے مجھے حکم دیا یعنی قرآن کریم جمع کرنا۔میں نے کہا آپ دونوں وہ کام کیسے کرتے ہیں جو نبی صلی اللہ تم نے نہیں کیا۔حضرت ابو بکر نے فرمایا: اللہ کی قسم ! وہ اچھا کام ہے۔میں ان سے بار بار کہتا رہا یہاں تک کہ اللہ نے میرا سینہ اس امر کے لیے کھول دیا جس کے لیے اللہ نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کا سینہ کھولا تھا۔میں کھڑا ہو گیا اور قرآن مجید کی تلاش کرنے لگا۔اسے چمڑے کے پرچوں اور کندھے کی ہڈیوں اور کھجوروں کی ٹہنیوں اور لوگوں کے سینوں سے اکٹھا کرنے لگا۔یہاں تک کہ میں نے سورہ توبہ کی دو آیتیں حضرت خزیمہ انصاری کے پاس پائیں۔وہ ان کے سوا میں نے کسی کے پاس نہ پائیں اور وہ یہ ہیں لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيْضٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيم (128:31) یعنی یقینا تمہارے پاس تمہی میں سے ایک رسول آیا۔اسے بہت شاق گزرتا ہے جو تم تکلیف اٹھاتے ہو اور وہ تم پر بھلائی چاہتے ہوئے حریص رہتا ہے۔مومنوں کے لیے بے حد مہربان اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔حدیث میں صرف اس آیت کا ذکر ہے ویسے دو آیات لکھا ہوا ہے شاید اگلی آیت بھی ہو۔پھر روایت ہے کہ وہ ورق جس پہ قرآن مجید جمع کیا گیا تھا وہ حضرت ابو بکرؓ کے پاس رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دے دی۔پھر حضرت عمرؓ کے پاس رہے یہاں تک کہ اللہ نے ان کو وفات دے دی۔پھر حضرت حفصہ بنت عمر کے پاس رہے۔پھر بعد میں ان سے بھی جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے 113 حضرت عثمان نے لے لیے تھے۔114 حضرت عمر کی خلافت کے بارہ میں مشاورت جب حضرت ابو بکر کی وفات کا وقت قریب آیا تو حضرت ابو بکر نے حضرت عبد الرحمن بن عوف کو بلایا اور فرمایا مجھے عمرہ کے متعلق بتاؤ۔تو انہوں نے یعنی حضرت عبد الرحمن بن عوف نے کہا کہ اے رسول اللہ کے خلیفہ، اللہ کی قسم ! حضرت عمر آپ کی رائے سے بھی افضل ہیں سوائے اس کے کہ ان کی طبیعت میں سختی ہے۔حضرت ابو بکر نے فرمایا سختی اس لیے ہے کہ وہ مجھ میں نرمی دیکھتے ہیں۔اگر امارت ان کے سر ہو گئی تو ہ اپنی بہت سی باتیں جو ان میں ہیں ان کو چھوڑ دیں گے کیونکہ میں نے ان کو دیکھا ہے کہ جب میں کسی شخص پر سختی کرتا ہوں تو وہ مجھے اس شخص سے راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب میں کسی شخص سے نرمی کرتا ہوں ، نرمی کا سلوک کرتا ہوں تو وہ اس وقت مجھے سختی کرنے کا کہتے ہیں۔اس کے بعد حضرت ابو بکر نے حضرت عثمان بن عفان کو بلایا اور ان سے حضرت عمرؓ کے بارے میں دریافت فرمایا۔