اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 466
اصحاب بدر جلد 3 466 حضرت علی اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے اور نہ ہی اس میں کوئی حقیقت ہے بلکہ کہا جاتا ہے کہ وہاں تو حضرت 911 مغیرہ بن شعبہ کی قبر ہے۔امام ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ نجف میں مشہد کے نام سے جو مقام ہے اہل علم اس پر متفق ہیں کہ وہ حضرت علی کی قبر کا مقام نہیں بلکہ وہ حضرت مغیرہ بن شعبہ کی قبر ہے۔اہل بیت، شیعہ اور دیگر مسلمانوں نے کوفہ میں ان کی حکومت اور تین سو سال سے زیادہ بیت جانے کے باوجود کبھی اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ یہ حضرت علی کی قبر ہے۔حضرت علی کی شہادت کے تین سو سال بعد اس جگہ کو مشہد علی کا نام دیا گیا ہے اس لیے یہ روایت بالکل غلط ہے کہ یہ حضرت علی کی قبر ہے۔نیز علامہ ابن جوزی نے اپنی تاریخ کی کتاب میں حضرت علی کے مزار کے متعلق متفرق روایات جنہیں اوپر بیان کر دیا گیا ہے کو درج کرنے کے بعد لکھا ہے کہ واللهُ أَعْلَمُ أَي الْأَقْوَالِ اَصَحُ اللہ بہتر جانتا ہے کہ کون سا قول زیادہ درست اور صحیح ہے۔3 شادی اور اولاد 913 912 حضرت علی کی جو شادیاں اور اولاد ہیں ان کا ذکر اس طرح ملتا ہے کہ حضرت علی نے مختلف وقتوں میں آٹھ شادیاں کیں جن کے نام یہ ہیں۔فاطمہ بنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، خولہ بنت جعفر بن قیس لیلیٰ بنت مسعود بن خالد ، أقد البنين بنت حِزام بن خالد ، اسماء بنت عُمَيْس صَهْبَاء أُم حبيب بنت ربیعہ ، امامہ بنت ابو العاص بن ربیع۔یہ آنحضرت صلی الی یکم کی صاحبزادی حضرت زینب کی بیٹی اور نبی کریم صلی للی کم کی نواسی تھیں۔اُتم سعید بنت عُروة بن مسعود ثقفی۔ان سے اللہ تعالیٰ نے ان کو کثیر اولاد عطا کی جن کی تعداد تیس سے زائد بنتی ہے۔چودہ لڑکے اور انہیں لڑکیاں۔آپ کی نسل حضرت حسن، حضرت حسین، محمد بن حَنَفِيَّه، عباس بن کلابیہ اور عمرو بن تغلبيه سے چلی۔4 914 فضائل و مناقب حضرت علی کے فضائل و خصائل اور مناقب کے بارے میں لکھا جاتا ہے کہ : حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی للی یکم نے فرمایا: أَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ وَعَلَى بَابُهَا، فَمَنْ أَرَادَ الْمَدِينَةَ، فَلْيَأْتِ الْبَابَ کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے جو اس شہر کا قصد کرے اس کو چاہیے کہ وہ اس کے دروازے پر آئے۔915 حضرت مصلح موعودؓ اس بات کو بیان فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے ایک دفعہ فرمایا کہ صحابہ میں سے زیادہ بہادر اور دلیر حضرت ابو بکرؓ تھے اور پھر انہوں نے کہا کہ جنگ بدر میں جب رسول کریم صلی الی نیم کے لیے ایک علیحدہ چبوترہ بنایا گیا تو اس وقت سوال پیدا ہوا کہ آج رسول اللہ صلی اللی کم کی حفاظت کا کام کس