اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 467 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 467

اصحاب بدر جلد 3 467 حضرت علی کے سپرد کیا جائے؟ اس پر حضرت ابو بکر فورانگی تلوار لے کر کھڑے ہو گئے اور انہوں نے اس انتہائی خطرے کے موقع پر نہایت دلیری سے آپ کی حفاظت کا فرض سر انجام دیا۔اسی طرح احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی ا ہم نے ایک دفعہ فرمایا أَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ وَعَلَى بائیها یعنی کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔پس حضرت علی ہو بھی رسول کریم صلی الی یکم نے علماء میں سے قرار دیا ہے مگر خیبر کی جنگ میں سب سے نازک وقت میں اسلام کا جھنڈار سول کریم صلی این یکم نے آپ ہی کے ہاتھ میں دیا تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی املی کام کے وقت علماء بزدل نہیں تھے بلکہ سب سے زیادہ بہادر تھے۔916 یہ ذکر آپ علماء کی بہادری کا فرمارہے ہیں۔اس ضمن میں یہ واقعہ بیان فرمایا۔حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ ایک وقت تھا کہ میں اپنے پیٹ پر بھوک کی وجہ سے پتھر باندھتا تھا اور آج میر اصدقہ یعنی زکوۃ چار ہزار دینار تک پہنچ چکا ہے۔ایک روایت میں چالیس ہزار دینار کا ذکر ہے۔ابو بحر اپنے ایک استاد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت علی کو موٹی تہ بند پہنے دیکھا۔آپ نے فرمایا: میں نے یہ پانچ درہم میں خریدی ہے جو مجھے اس پر ایک درہم کا نفع دے گا میں اسے یہ فروخت کر دوں گا۔راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کے پاس چند درہم کی تھیلی دیکھی تو آپ نے کہا یہ ینبع کی جائیداد میں سے ہمارا بچنے والا نفقہ ہے۔يَنْبع ایک بستی ہے جو مدینہ سے سات منزل دور تھی، ساحل سمندر کی طرف واقع ہے۔آپ کی انگوٹھی پر ، حضرت علی کی انگوٹھی پر اللہ الملك کندہ تھا کہ اللہ ہی 917 918 بادشاہ ہے۔جميع بن محمیر بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ کے پاس اپنی پھوپھی کے ساتھ آیا تو انہوں نے سوال کیا کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ رسول اللہ صلی علیہم کو کون عزیز تھا؟ حضرت عائشہ نے فرمایا فاطمہ۔پھر سوال کیا گیا کہ مردوں میں سے ؟ تو آپ نے فرمایا ان کے خاوند حضرت علی 18 حضرت ثعلبہ بن ابو مالک بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن عبادہ ہر میدان جنگ میں رسول اللہ صلی ال نیم کی طرف سے علمبر دار ہوتے تھے مگر جب لڑائی کا وقت آتا تھا تو حضرت علی بن ابو طالب جھنڈا تھام لیتے تھے۔919 قبیلہ ثقیف کے ایک شخص نے بیان کیا کہ حضرت علی نے مجھے سابور علاقے کا عامل مقرر کیا۔سابور فارس میں ایک علاقہ ہے جو شیر از سے کوئی تقریباً 75 میل کے فاصلہ پر ہے اور فرمایا کسی شخص کو بھی ایک درہم ٹیکس کی وجہ سے کوڑا نہ مارنا اور لوگوں کے رزق کے پیچھے نہ پڑنا اور نہ سردیوں یا گرمیوں میں ان کے کپڑوں کے پیچھے پڑنا۔اس طرح ٹیکس نہیں لینا کہ کپڑے اتر جائیں اور نہ ان سے کسی ایسے جانور کا مطالبہ کرنا جسے وہ کام میں استعمال کرتے ہوں۔کسی کو ایک درہم کی طلب میں کھڑے نہ رکھنا۔