اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 465
محاب بدر جلد 3 465 حضرت علی جس میں قمیص نہیں تھی۔آپ کی تدفین سحری کے وقت ہوئی۔کہا جاتا ہے کہ حضرت علی کے پاس کچھ متبرک مشک تھا جو رسول اللہ صلی علی یم کے جسد مبارک کو لگائے گئے مشک سے بچا تھا اور حضرت علی کی وصیت تھی کہ وہ مشک آپ کی میت کو لگایا جائے۔آپ کی عمر میں اختلاف پایا جاتا ہے۔بعض نے کہا آپ کی عمر ستاون سال تھی، بعض کے نزدیک اٹھاون سال تھی، بعض کے نزدیک پینسٹھ سال تھی، بعض کے نزدیک تریسٹھ سال تھی۔تاہم اکثریت کے نزدیک تریسٹھ سال والی روایت زیادہ درست تھی۔910 حضرت علی کا مزار کہاں واقع ہے ؟ اس بارے میں بھی سوال اٹھتا ہے۔اس کے بارے میں تاریخ کی کتابوں میں متفرق روایات ملتی ہیں جو یوں ہیں۔حضرت علی کو رات کے وقت کوفہ میں دفن کیا گیا اور ان کی تدفین کو مخفی رکھا گیا۔حضرت علی کو کوفہ کی جامع مسجد میں دفن کیا گیا۔حضرت امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما نے حضرت علی کی لاش کو مدینہ منتقل کیا اور حضرت فاطمہ کی قبر کے پاس بقیع میں دفن کیا۔ایک روایت یہ ہے کہ جب ان دونوں نے حضرت علی کی لاش کو ایک صندوق میں ڈال کر اونٹ پر رکھا تو اونٹ گم ہو گیا۔اس اونٹ کو کے قبیلہ نے پکڑا۔وہ اس صندوق کو مال سمجھ رہے تھے۔جب انہوں نے دیکھا کہ صندوق میں لاش ہے تو وہ اس کو پہچان نہیں سکے اور انہوں نے اس لاش کو صندوق سمیت دفن کر دیا اور کوئی نہیں جانتا کہ حضرت علی کی قبر کہاں ہے۔پھر ایک روایت ہے کہ حضرت حسن نے حضرت علی کو کوفہ میں جعدہ بن ہبیرہ کی آل کے کسی حجرے میں دفن کیا تھا۔کہا جاتا ہے کہ جعدہ حضرت علی کا بھانجا تھا۔امام جعفر صادق کہتے ہیں کہ حضرت علی شکا رات کے وقت جنازہ پڑھا گیا اور کوفہ میں ان کی تدفین ہوئی اور ان کی قبر کے مقام کو مخفی رکھا گیا تا ہم وہ قصر امارت کے پاس تھا۔ایک دوسری روایت یہ ہے کہ حضرت علی کی وفات کے بعد حضرت امام حسن نے حضرت علی کا جنازہ پڑھایا اور کوفہ کے باہر حضرت علی کی تدفین کی گئی اور ان کی قبر کو اس خوف سے مخفی رکھا گیا کہ خوارج وغیرہ ان کی اور قبر کی بے حرمتی نہ کریں۔بعض شیعہ کہتے ہیں کہ حضرت علی کا مزار نجف میں ہے، اس مقام پر جس کو آج کل مَشْهَدُ النجف کہتے ہیں۔ایک روایت کے مطابق کوفہ میں حضرت علی کو شہید کیا گیا تا ہم آپ کی قبر کے بارے میں معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہے۔حضرت علی کی وفات کے بعد حضرت امام حسن نے حضرت علی کا جنازہ پڑھایا اور کوفہ کے دارالامارہ میں حضرت علی کی تدفین کی گئی اس خوف سے کہ خوارج ان کی لاش کی بے حرمتی نہ کریں۔علامہ ابن اثیر لکھتے ہیں کہ یہ روایت مشہور ہے اور جس نے یہ کہا کہ انہیں جانور پر رکھا گیا اور وہ اسے لے گیا اور کوئی نہ جان سکا کہ وہ جانور کہاں چلا گیا تو یہ درست نہیں ہے اور اس نے اس بارے میں تکلف سے کام لیا ہے جس کا اس کو کوئی علم نہیں اور نہ ہی عقل اور نہ ہی شریعت اس کا جواز پیش کرتی ہے اور جو اکثر جاہل روافض یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت علی کا مزار مَشْهَدُ النَّجَف میں ہے تو