اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 28
حاب بدر جلد 3 61 28 60 حضرت عمر بن خطاب خد انا پسند کرے اور اس طرح جو روپیہ حاصل ہو اس کو حلال اور طیب فرمائے اس لیے یہ تفسیر ہی غلط ہے اور صحیح تفسیر یہی ہے کہ اس آیت میں ایک عام اصول مقرر فرما دیا ہے کہ قیدی اسی صورت میں پکڑے جا سکتے ہیں کہ باقاعدہ جنگ ہو اور دشمن کو کاری ضر میں لگا کر مغلوب کر دیا گیا ہو۔0 مفسرین قرآن میں سے علامہ امام رازی اور معروف سیرت نگار علامہ شبلی نعمانی کا بھی یہی موقف ہے جو حضرت مصلح موعود نے بیان فرمایا ہے۔1 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ ”مدینہ پہنچ کر آنحضرت صلی الم نے قیدیوں کے متعلق مشورہ کیا کہ ان کے متعلق کیا کرنا چاہئے۔عرب میں بالعموم قیدیوں کو قتل کر دینے یا مستقل طور پر غلام بنا لینے کا دستور تھا مگر آنحضرت صلی اللہ یکم کی طبیعت پر یہ بات سخت ناگوار گزرتی تھی اور پھر ابھی تک اس بارہ میں کوئی الہی احکام بھی نازل نہیں ہوئے تھے۔حضرت ابو بکر نے عرض کیا کہ میری رائے میں تو ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دینا چاہئے کیونکہ آخر یہ لوگ اپنے ہی بھائی بند ہیں اور کیا تعجب کہ کل کو انہی میں سے فدایانِ اسلام پیدا ہو جائیں مگر حضرت عمرؓ نے اس رائے کی مخالفت کی اور کہا کہ دین کے معاملہ میں رشتہ داری کا کوئی پاس نہیں ہونا چاہئے اور یہ لوگ اپنے افعال سے قتل کے مستحق ہو چکے ہیں۔پس میری رائے میں ان سب کو قتل کر دینا چاہئے بلکہ حکم دیا جاوے کہ مسلمان خود اپنے ہاتھ سے اپنے اپنے رشتہ داروں کو قتل کریں۔آنحضرت صلی سلیم نے اپنے فطری رحم سے متاثر ہو کر حضرت ابو بکر کی رائے کو پسند فرمایا اور قتل کے خلاف فیصلہ کیا اور حکم دیا کہ جو مشرکین اپنا فدیہ وغیر ہ ادا کر دیں انہیں چھوڑ دیا جاوے۔چنانچہ بعد میں اسی کے مطابق الہی حکم نازل ہوا۔“ جب الہی حکم بھی فدیہ دینے کے بارے میں نازل ہو گیا جیسا کہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے بھی لکھا ہے تو پھر اس حدیث کو بنیاد بنا کر آنحضرت صلی للی کم اور حضرت ابو بکڑ کے رونے کا جواز پیدا کر ناتو عجیب سی بات ملتی ہے۔بہر حال حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں ” چنانچہ ہر شخص کے مناسب حال ایک ہزار درہم سے لے کر چار ہزار درہم تک اس کا فدیہ مقرر کر دیا گیا اس طرح سارے قیدی رہا ہوتے گئے۔62 حضرت عمرہ کی بیٹی حضرت حفصہ کی آنحضرت صلی نام سے شادی حضرت عمر کی بیٹی حضرت حفصہ کی آنحضرت صلی یہ کم سے شادی کے بارے میں جو ذکر ملتا ہے کہ حضرت حفصہ کے شوہر جنگ بدر میں شریک ہوئے اور جنگ سے واپسی پر بیمار ہو کر انتقال کر گئے تو بعد میں آنحضرت صلی الم نے حضرت حفصہ کے ساتھ شادی کی۔اس کی تفصیل بخاری میں یوں درج ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے بیان کیا کہ جب حضرت حفصہ بنت عمر خُنَيْس بن حُذَافَهُ سَهْمِی سے بیوہ ہوئیں اور وہ رسول اللہ صلی علیم کے صحابہ میں سے تھے جو بدر میں شریک تھے۔مدینہ میں انہوں نے وفات پائی تو حضرت عمرؓ نے کہا: میں حضرت عثمان بن عفان سے ملا ان کے پاس حفصہ کا ذکر کیا اور کہا کہ رض و