اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 29 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 29

اصحاب بدر جلد 3 29 29 حضرت عمر بن خطاب اگر آپ چاہیں تو حفصہ بنت عمر کا نکاح آپ سے کر دوں۔حضرت عثمان نے کہا میں اپنے اس معاملے پر غور کروں گا۔حضرت عمر کہتے ہیں چنانچہ میں کئی روز تک ٹھہرا رہا۔پھر حضرت عثمان نے کچھ دنوں کے بعد کہا کہ مجھے یہی مناسب معلوم ہوا ہے کہ میں ان دنوں شادی نہ کروں۔حضرت عمر “ کہتے تھے۔پھر میں حضرت ابو بکر سے ملا کہ اگر آپ چاہیں تو میں حفصہ بنت عمر کا نکاح آپ سے کر دوں۔حضرت ابو بکر خاموش ہو گئے اور مجھے کچھ جواب نہ دیا۔اور حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ عثمان کی نسبت میں نے ان سے زیادہ محسوس کیا یعنی احساس زیادہ ہوا کہ انہوں نے بھی انکار کر دیا ہے۔پھر میں کچھ دن ٹھہر رہا۔پھر رسول اللہ صلی نیلم نے حضرت حفصہ سے نکاح کا پیغام بھیجا اور میں نے آپ سے ان کا نکاح کر دیا۔جب نکاح ہو گیا تو پھر حضرت ابو بکر مجھ سے ملے اور کہا جب آپ نے حفصہ کا ذکر کیا تھا اور میں نے آپ کو کوئی جواب نہ دیا تو شاید آپ نے مجھ سے میرے نہ کرنے پر، انکار کرنے پہ کچھ محسوس کیا تھا۔میں نے کہا جی ہاں میں نے محسوس کیا تھا تو انہوں نے کہا کہ دراصل جو بات آپ نے پیش کی تھی اس کی نسبت آپ کو جواب دینے سے مجھے نہیں روکا تھا مگر اس بات نے کہ مجھے علم ہو چکا تھا کہ رسول اللہ صلی ا ہم نے حضرت حفصہ کا ذکر کیا تھا اور میں ایسا نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی ہیم کا یہ راز ظاہر کرتا۔یعنی حضرت ابو بکر کو یہ علم تھا کہ آنحضرت صلی ا ہم نے حضرت حفصہ سے رشتہ کا اظہار کیا تھا۔تو کہتے ہیں یہ آنحضرت صلی اللی کم کا راز تھا میں اس کو ظاہر نہیں کر سکتا تھا اور اگر آنحضرت صلی الیوی اسے ترک کر دیتے تو میں ضرور تمہارے اس رشتہ کو قبول کر لیتا۔3 یہ حضرت ابو بکر نے جواب دیا۔اس واقعہ کی کچھ تفصیل سیرت خاتم النبیین میں بھی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھی ہے۔کہتے ہیں کہ ” حضرت عمر بن خطاب کی ایک صاحبزادی تھیں جن کا نام حفصہ تھا۔وہ خسیس بن حذافہ کے عقد میں تھیں جو ایک مخلص صحابی تھے اور جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے۔بدر کے بعد مدینہ واپس آنے پر خُنیس " بیمار ہو گئے اور اس بیماری سے جانبر نہ ہو سکے۔ان کی وفات کے کچھ عرصہ بعد حضرت عمر کو حفصہ کے نکاح ثانی کا فکر دامن گیر ہوا۔اس وقت حفصہ کی عمر میں سال سے اوپر تھی۔حضرت عمرؓ نے اپنی فطرتی سادگی میں خود عثمان بن عفان سے مل کر ان سے ذکر کیا کہ میری لڑ کی حفصہ اب بیوہ ہے آپ اگر پسند کریں تو اس کے ساتھ شادی کر لیں مگر حضرت عثمان نے ٹال دیا۔اس کے بعد حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکر سے ذکر کیا لیکن حضرت ابو بکر نے بھی خاموشی اختیار کی اور کوئی جواب نہیں دیا۔اس پر حضرت عمرؓ کو بہت ملال ہوا اور انہوں نے اسی ملال کی حالت میں آنحضرت صلی علیم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے ساری سرگذشت عرض کر دی۔آپ نے فرمایا۔عمر ! کچھ فکر نہ کرو۔خدا کو منظور ہوا تو حفصہ کو عثمان وابو بکر کی نسبت بہتر خاوند مل جائے گا اور عثمان کو حفصہ کی نسبت بہتر بیوی ملے گی۔یہ آپ نے اس لئے فرمایا کہ آپ حفصہ کے ساتھ شادی کر لینے اور اپنی لڑکی ام کلثوم کو حضرت عثمان کے ساتھ بیاہ کر دینے کا ارادہ کر چکے تھے جس سے حضرت ابو بکر 63