اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 27
اصحاب بدر جلد 3 27 27 حضرت عمر بن خطاب ناراضگی کا اظہار فرمایا اور حضرت عمر کی رائے کو پسند فرمایا۔حضرت عمر کی سیرت و سوانح لکھنے والے جب ایک الگ باب باندھتے ہیں کہ حضرت عمر کی رائے پر کون کون سے قرآنی احکام نازل ہوئے تو ان میں سے ایک یہ بھی درج کیا جاتا ہے کہ جنگ بدر کے قیدیوں کے بارے میں حضرت عمر کی رائے کو اللہ تعالیٰ نے ترجیح دی، لیکن یہ مبہم ہے۔جیسا کہ میں نے کہا واضح نہیں ہو تا بلکہ لگتا ہے کہ سیرت نگاروں اور مفسرین کو اس کو سمجھنے میں غلطی لگی ہے۔بہر حال حضرت مصلح موعودؓ نے اس کو جو بیان فرمایا ہے تو آپ کے غیر مطبوعہ تفسیری نوٹس میں سے ایک نوٹ مل ہے جو ان روایات کی تردید کر تا ہے اور حضرت مصلح موعودؓ کی جو یہ وضاحت ہے وہی صحیح لگتی ہے۔بلا وجہ حضرت عمر کے مقام کو اونچا کرنے کے لیے لگتا ہے کہ انہوں نے یہ روایت بنادی یا اس کو غلط سمجھا گیا۔بہر حال حضرت مصلح موعودؓ سورۃ انفال کی آیت نمبر اڑسٹھ 68 کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اسلام سے پہلے عرب میں رواج تھا اور لکھتے ہیں کہ افسوس ہے کہ دنیا کے بعض حصوں میں اب تک یہ چلا آتا ہے کہ اگر جنگ نہ بھی ہو اور لڑائی نہ بھی ہو تب بھی قیدی پکڑ لیتے ہیں اور ان کو غلام بنا لیتے ہیں۔یہ آیت اس قبیح رسم کو منسوخ کرتی ہے اور صاف صاف الفاظ میں حکم دیتی ہے کہ صرف جنگ کی حالت میں اور لڑائی کے بعد ہی دشمن کے آدمی قیدی بنائے جا سکتے ہیں۔اگر لڑائی نہ ہو رہی ہو تو کسی آدمی کو قیدی بنانا جائز نہیں۔اس آیت کی بڑی غلط تفسیر کی گئی ہے۔کہتے ہیں کہ جب مسلمانوں نے جنگ بدر کے موقع پر مکہ والوں کے کچھ قیدی پکڑ لیے تو آنحضرت صل الله اعلم نے صحابہ سے مشورہ کیا کہ ان کے متعلق کیا فیصلہ کرنا چاہیے۔حضرت عمر کی رائے تھی کہ ان کو قتل کر دینا چاہیے۔حضرت ابو بکر کی رائے تھی کہ فدیہ لے کر چھوڑ دینا چاہیے۔آنحضرت صلی اللہ ہم نے ابو بکر کی رائے کو پسند فرمایا اور یہ سورۃ انفال کی 68 آیت ہے جس میں یہ ہے کہ کسی نبی کے لیے جائز نہیں کہ زمین میں خونریز جنگ کرے۔بہر حال حضرت مصلح موعودؓ اسی کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جو رائے لی گئی تھی اس میں تو حضرت ابو بکر کی رائے مختلف تھی، حضرت عمر کی رائے مختلف تھی اور آنحضرت صلی للہ ہم نے حضرت ابو بکر کی رائے کو پسند فرمایا اور فدیہ لے کر قیدیوں کو چھوڑ دیا۔لیکن (مفسرین) کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو گویا خدا نے آنحضرت صلی علیم کے فعل کو نا پسند فرمایا۔قیدیوں کو قتل کر دینا چاہیے تھا اور فدیہ نہیں لینا چاہیے تھا۔یہ طبری کی تفسیر میں ہے۔حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں مگر یہ تفسیر غلط ہے۔اوّل اس وقت تک خدا نے کوئی ایسا حکم نازل نہیں کیا تھا کہ قیدیوں کو فدیہ لے کر نہ چھوڑا جائے۔اس لیے فدیہ قبول کرنے پر آنحضرت صلی علی کم پر کوئی الزام نہیں آسکتا تھا۔دوم اس سے پیشتر آنحضرت صلی اللہ ہم نے نخلہ کے مقام پر دو آدمیوں سے فدیہ لے کر ان کو چھوڑ دیا تھا اور خدا نے آپ کے اس فعل کو نا پسند نہیں فرمایا تھا۔سوم صرف دو آیتیں اور آگے چل کر خدا مسلمانوں کو اجازت دیتا ہے کہ مال غنیمت سے جو کچھ تم کو ملے اس کو کھاؤ وہ حلال اور طیب ہے۔یہ بات کسی کے وہم میں بھی نہیں آسکتی کہ آنحضرت صلی نام کے فدیہ لینے کو