اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 416
اصحاب بدر جلد 3 416 حضرت علی ہوئے۔ہم نے اس کو بطحا کے نواح کی نرم مٹی سے لیپا۔پھر کھجور کے ریشوں سے دو تکیے بھرے۔ہم نے اس کو اپنے ہاتھوں سے دھنا۔پھر ہم نے کھجور اور منقہ کھانے کے لیے اور میٹھا پانی پینے کے لیے رکھا اور ایک لکڑی لی اور اس کو کمرے میں ایک طرف لگا دیا تا کہ اس پر کپڑے وغیر ہ لٹکائے جاسکیں اور اس پر مشکیزہ لٹکایا جائے۔یعنی کپڑے لٹکانے کے لیے اور مشکیزہ لٹکانے کے لیے وہ لکڑی کھڑی کی۔ہم نے حضرت فاطمہ کی شادی سے اچھی کوئی شادی نہیں دیکھی۔دعوت ولیمہ کھجور ، جو ، پنیر اور حَيْس پر مشتمل تھا۔خیس اس کھانے کو کہتے ہیں جو کھجور اور بھی اور پنیر وغیرہ سے ملا کے بنایا جاتا ہے۔حضرت اسماء بنت عمیس بیان کرتی ہیں کہ اس زمانے میں اس دعوت ولیمہ سے بہتر کوئی ولیمہ نہیں ہوا۔819 لکھا ہے حضرت فاطمہ اور حضرت علی کی شادی کا تفصیلی تذکرہ کرتے ہوئے سیرت خاتم النبیین میں یوں ہے کہ حضرت فاطمہ آنحضرت صلی علیم کی اس اولاد میں سب سے چھوٹی تھیں جو حضرت خدیجہ کے بطن سے پیدا ہوئی اور آپ اپنی اولاد میں سب سے زیادہ حضرت فاطمہ کو عزیز رکھتے تھے۔اور اپنی ذاتی خوبیوں کی وجہ سے وہی اس امتیازی محبت کی سب سے زیادہ اہل بھی تھیں۔اب ان کی عمر کم و بیش پندرہ سال کی تھی اور شادی کے پیغامات آنے شروع ہو گئے تھے۔سب سے پہلے حضرت فاطمہ کے لیے حضرت ابو بکر نے درخواست کی مگر آنحضرت صل الی عوام نے عذر کر دیا۔پھر حضرت عمرؓ نے عرض کیا مگر ان کی درخواست بھی منظور نہ ہوئی۔اس کے بعد ان دونوں بزرگوں نے یہ سمجھ کر کہ آنحضرت صلی ای دلم کا ارادہ حضرت علی کے متعلق معلوم ہوتا ہے حضرت علی سے تحریک کی کہ تم فاطمہ کے متعلق درخواست کر دو۔حضرت علیؓ نے جو غالباً پہلے سے خواہش مند تھے مگر بوجہ حیا خاموش تھے فوراً آنحضرت صلی علم کی خدمت میں حاضر ہو کر درخواست پیش کر دی۔دوسری طرف آنحضرت صلیا ہم کو خدائی وحی کے ذریعہ یہ اشارہ ہو چکا تھا کہ حضرت فاطمہ کی شادی حضرت علی سے ہونی چاہیے۔چنانچہ حضرت علی نے درخواست پیش کی تو آپ صلی میں ہم نے فرمایا کہ مجھے تو اس کے متعلق پہلے سے خدائی اشارہ ہو چکا ہے۔پھر آپ نے حضرت فاطمہ سے پوچھا تو وہ بوجہ حیا کے خاموش رہیں۔یہ بھی ایک طرح کا اظہارِ رضا مندی تھا۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ تم نے مہاجرین اور انصار کی ایک جماعت کو جمع کر کے حضرت علی اور فاطمہ کا نکاح پڑھایا۔یہ 2 ہجری کی ابتدا یا وسط کا واقعہ ہے۔اس کے بعد جب جنگ بدر ہو چکی تو غالباً ماہ ذوالحجہ 12 ہجری میں رخصتانہ کی تجویز ہوئی اور آنحضرت صلی الم نے حضرت علی کو بلا کر دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس مہر کی ادائیگی کے لیے کچھ ہے یا نہیں ؟ یہ باغ والا واقعہ جو پچھلی دفعہ بیان ہوا تھا اس شادی کے واقعہ سے پہلے کا ہے۔یہ میں نے صحیح کہا تھا۔حضرت علی کو بلا کر دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس مہر کی ادائیگی کے لیے کچھ ہے یا نہیں ؟ حضرت علی نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! میرے پاس تو کچھ نہیں۔آپ نے فرمایا وہ زرہ کیا ہوئی جو میں نے اس دن