اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 417
محاب بدر جلد 3 417 حضرت علی یعنی بدر کے مغانم میں سے تمہیں دی تھی ؟ حضرت علی نے عرض کیا وہ تو ہے۔آپ نے فرمایا بس وہی لے آؤ۔چنانچہ یہ زرہ چار سواسی درہم میں فروخت کر دی گئی اور آنحضرت صلی العلیم نے اسی رقم میں سے شادی کے اخراجات مہیا کیے۔جو جہیز آنحضرت صلی اللہ ہم نے حضرت فاطمہ کو دیا وہ ایک بیل دار چادر، ایک چمڑے کا گدیلا جس کے اندر کھجور کے خشک پتے بھرے ہوئے تھے اور ایک مشکیزہ تھا۔اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے حضرت فاطمہ کے جہیز میں ایک چکی بھی دی تھی۔جب یہ سامان ہو چکا تو مکان کی فکر ہوئی۔حضرت علی اب تک غالباً آنحضرت صلی علیکم کے ساتھ مسجد کے کسی حجرے وغیرہ میں رہتے تھے مگر شادی کے بعد یہ ضروری تھا کہ کوئی الگ مکان ہو جس میں خاوند بیوی رہ سکیں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ ﷺ نے حضرت علی سے ارشاد فرمایا کہ اب تم کوئی مکان تلاش کرو جس میں تم دونوں رہ سکو۔حضرت علی نے عارضی طور پر ایک مکان کا انتظام کیا اور اس میں حضرت فاطمہ نکا رخصتانہ ہو گیا۔اسی دن رخصتانہ کے بعد آنحضرت صلی علیکم ان کے مکان پر تشریف لے گئے اور تھوڑا سا پانی منگوا کر اس پر دعا کی اور پھر وہ پانی حضرت فاطمہ اور حضرت علی ہر دو پر یہ الفاظ فرماتے ہوئے چھڑ کا کہ اللهُمَّ بَارِكَ فِيهِمَا وَبَارِكْ عَلَيْهِمَا وَبَارِكَ لَهُمَا نَسْلَهُمَا یعنی اے میرے اللہ ! تو ان دونوں کے باہمی تعلقات میں برکت دے اور ان کے ان تعلقات میں برکت دے جو دوسرے لوگوں کے ساتھ قائم ہوں اور ان کی نسل میں برکت دے اور پھر آپ اس نئے جوڑے کو اکیلا چھوڑ کر واپس تشریف لے آئے۔اس کے بعد جو ایک دن آنحضرت صلی للی کم حضرت فاطمہ کے گھر تشریف لے گئے تو حضرت فاطمہ نے آنحضرت صلی اللی نام سے عرض کیا کہ حارثہ بن نعمان انصاری کے پاس چند ایک مکانات ہیں آپ ان سے فرماویں کہ وہ اپنا کوئی مکان خالی کر دیں۔آپ نے فرمایا وہ ہماری خاطر اتنے مکانات پہلے ہی خالی کر چکے ہیں اب مجھے تو انہیں کہتے ہوئے شرم آتی ہے۔حارثہ کو کسی طرح اس کا علم ہوا تو وہ بھاگے ہوئے آئے اور آنحضرت صلی علیم سے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! میر ا جو کچھ ہے وہ حضور کا ہے اور واللہ جو چیز آپ مجھ سے قبول فرمالیتے ہیں وہ مجھے زیادہ خوشی پہنچاتی ہے بہ نسبت اس چیز کے جو میرے پاس رہتی ہے اور پھر اس مخلص صحابی نے باصرار اپنا ایک مکان خالی کروا کے پیش کر دیا اور حضرت علی اور حضرت فاطمہ وہاں آگئے۔820 زہد و قناعت کرنے والا جوڑا حضرت علی اور حضرت فاطمہ اپنی تنگدستی اور غربت کے باوجو د زہد و قناعت کا نمونہ دکھایا کرتے تھے۔چنانچہ احادیث میں ذکر ہے کہ حضرت علی نے بیان فرمایا کہ حضرت فاطمہ نے چکی چلانے سے اپنے ہاتھ میں تکلیف کی شکایت کی اور نبی صلی علی کرم کے پاس کچھ قیدی آئے تو وہ حضور صلی الی یم کی طرف گئیں اور آپ کو نہ پایا۔آپ یعنی حضرت فاطمہ ، حضرت عائشہ سے ملیں اور ان کو بتایا کہ کس طرح میں آئی تھی۔جب نبی صل الله علم تشریف لائے تو حضرت عائشہ نے حضرت فاطمہ کے اپنے ہاں آنے کا بتایا۔حضرت علی