اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 364 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 364

اصحاب بدر جلد 3 364 حضرت عثمان بن عفان اس کے خونی حروف کی جھلک کو دیکھ کر خوف سے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔وہ آیت یہ تھی: فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (ابت 1387) اللہ تعالیٰ ضرور ان سے تیر ابدلہ لے گا اور وہ بہت سننے والا اور جاننے والا ہے۔اس کے بعد ایک اور شخص سودان نامی آگے بڑھا اور اس نے تلوار سے آپ پر حملہ کرنا چاہا۔پہلا وار کیا تو آپ نے اپنے ہاتھ سے اس کو روکا اور آپ کا ہاتھ کٹ گیا۔اس پر آپ نے ، حضرت عثمان نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی قسم !یہ وہ ہاتھ ہے جس نے سب سے پہلے قرآن کریم لکھا تھا۔اس کے بعد پھر اس نے دوسر اوار کر کے آپ کو قتل کرنا چاہا تو آپ کی بیوی نائلہ وہاں آگئیں اور اپنے آپ کو بیچ میں کھڑا کر دیا مگر اس شفتی نے ایک عورت پر وار کرنے سے بھی دریغ نہ کیا اور وار کر دیا جس سے آپ کی بیوی کی انگلیاں کٹ گئیں اور وہ علیحدہ ہو گئیں۔پھر اس نے ایک وار حضرت عثمان پر کیا اور آپ کو سخت زخمی کر دیا۔اس کے بعد اس شقی نے یہ خیال کر کے کہ ابھی جان نہیں نکلی، شاید بچ جائیں اسی وقت جبکہ زخموں کے صدموں سے آپ بیہوش ہو چکے تھے اور شدت درد سے تڑپ رہے تھے آپ کا گلا پکڑ کر گھونٹنا شروع کیا اور اس وقت تک آپ کا گلا نہیں چھوڑا جب تک آپ کی روح جسم خاکی سے پرواز کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو لبیک کہتی ہوئی عالم بالا کو پرواز نہیں کر گئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پہلے حضرت عثمان کی بیوی اس نظارے کی ہیبت سے متاثر ہو کر بول نہ سکیں لیکن آخر انہوں نے آواز دی اور وہ لوگ جو دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے اندر کی طرف دوڑے مگر اب مدد فضول تھی، جو کچھ ہو نا تھاوہ ہو چکا تھا۔حضرت عثمان کے ایک آزاد کردہ غلام نے سوڈان کے ہاتھ میں وہ خون آلود تلوار دیکھی جس نے حضرت عثمان کو شہید کیا تھا تو اس سے نہ رہا گیا اور اس نے آگے بڑھ کر اس شخص کا تلوار سے سرکاٹ دیا۔اس پر اس کے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے اس کو قتل کر دیا۔اب اسلامی حکومت کا تخت خلیفہ سے خالی ہو گیا۔اہل مدینہ نے مزید کوشش فضول سمجھی اور ہر ایک اپنے اپنے گھر جا کر بیٹھ گیا۔ان لوگوں نے حضرت عثمان کو مار کر گھر پر دست تعدی دراز کرنا شروع کیا۔حضرت عثمان کی بیوی نے چاہا کہ اس جگہ سے ہٹ جاویں تو اس کے لوٹتے وقت ان میں سے ایک کمبخت نے اپنے ساتھیوں سے ان کے متعلق نہایت غلیظ الفاظ میں تبصرہ کیا۔بے شک ایک حیادار آدمی کے لیے خواہ وہ کسی مذہب کا پیرو کیوں نہ ہو اس بات کو باور کرنا بھی مشکل ہے کہ ایسے وقت میں جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت سابق قدیمی صحابی، آپ کے داماد، تمام اسلامی ممالک کے بادشاہ اور پھر خلیفہ وقت کو یہ لوگ ابھی ابھی مار کر فارغ ہوئے تھے ایسے گندے خیالات کا ان لوگوں نے اظہار کیا ہو لیکن ان لوگوں کی بے حیائی ایسی بڑھی ہوئی تھی کہ کسی قسم کی بد اعمالی بھی ان سے بعید نہ تھی۔یہ لوگ کسی نیک مدعا کو لے کر کھڑے نہیں ہوئے تھے نہ ان کی جماعت نیک آدمیوں کی جماعت تھی۔ان میں سے بعض عبد اللہ بن سبا یہودی کے فریب خوردہ اور اس کی عجیب و غریب مخالف اسلام تعلیموں کے دلدادہ تھے۔کچھ حد سے بڑھی ہوئی سوشلزم بلکہ بولشویزم کے فریفتہ تھے۔کچھ سزا یافتہ