اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 363
حاب بدر جلد 3 آج شام کو روزہ ہمارے ساتھ کھولنا 363 حضرت عثمان بن عفان حضرت عبد اللہ بن سلام تو یہ باتیں سن کے ان لوگوں سے مایوس ہو کر چلے گئے اور ادھر ان لوگوں نے یہ دیکھ کر کہ دروازے کی طرف سے جا کر حضرت عثمان کو قتل کرنا مشکل ہے کیونکہ اس طرف تھوڑے بہت جو لوگ بھی روکنے والے موجود ہیں وہ مرنے مارنے پر تلے ہوئے ہیں، یہ فیصلہ کیا کہ کسی ہمسائے کے گھر کی دیوار پھاند کر حضرت عثمان کو قتل کر دیا جائے۔چنانچہ اس ارادے سے چند لوگ ایک ہمسائے کی دیوار پھاند کر آپ کے کمرے میں گھس گئے۔جب اندر گھسے تو حضرت عثمان قرآن کریم پڑھ رہے تھے اور جب سے کہ محاصرہ ہو ا تھا رات اور دن آپ کا یہی شغل تھا کہ نماز پڑھتے یا قرآن کریم کی تلاوت کرتے اور اس کے سوا اور کسی کام کی طرف توجہ نہ کرتے اور ان دنوں میں صرف آپ نے ایک کام کیا اور وہ یہ کہ ان لوگوں کے گھروں میں داخل ہونے سے پہلے آپ نے دو آدمیوں کو خزانے کی حفاظت کے لیے مقرر کیا کیونکہ جیسا کہ ثابت ہے اس دن رات کو رویا میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو نظر آئے ، حضرت عثمان کو خواب میں نظر آئے اور فرمایا کہ عثمان آج شام کو روزہ ہمارے ساتھ کھولنا۔اس رویا سے آپ کو یقین ہو گیا تھا کہ آج میں شہید ہو جاؤں گا۔پس آپ نے اپنی ذمہ داری خیال کر کے دو آدمیوں کو حکم دیا کہ وہ خزانے کے دروازے پر کھڑے ہو کر پہرہ دیں تاکہ شور وشر میں کوئی شخص خزانے کو لوٹنے کی کوشش نہ کرے۔غرض جب یہ لوگ اندر پہنچے تو حضرت عثمان کو قرآن کریم پڑھتے ہوئے پایا۔ان حملہ آوروں میں محمد بن ابی بکر بھی تھے اور بوجہ اپنے اقتدار کے جو ان لوگوں پر ان کو حاصل تھا اپنا فرض سمجھتے تھے ، ان کا خیال تھا ناں کہ میں حضرت ابو بکر کا بیٹا ہوں تو مجھے فوقیت حاصل ہے۔اپنا فرض سمجھتے تھے کہ ہر ایک کام میں آگے ہوں۔چنانچہ انہوں نے بڑھ کر حضرت عثمان کی داڑھی پکڑ لی اور زور سے جھٹکا دیا۔حضرت عثمان نے ان کے اس فعل پر صرف اس قدر فرمایا کہ اے میرے بھائی کے بیٹے ! اگر تیر اباپ یعنی حضرت ابو بکر اس وقت ہو تا تو تو کبھی ایسانہ کرتا۔تجھے کیا ہوا۔تو خدا کے لیے مجھ پر ناراض ہے۔کیا اس کے سوا تجھے مجھ پر کوئی غصہ ہے کہ تجھ سے میں نے خدا کے حقوق ادا کروائے ہیں؟ میں یہی کہتا ہوں ناں کہ خدا کے حقوق ادا کرو۔اس پر محمد بن ابی بکر شرمندہ ہو کر واپس لوٹ گئے لیکن دوسرے شخص وہیں رہے اور چونکہ اس رات بصرہ کے لشکر کی مدینہ میں داخل ہونے کی یقینی خبر آچکی تھی اور یہ موقع ان لوگوں کے لیے آخری موقع تھا۔ان لوگوں نے فیصلہ کر لیا کہ بغیر اپنا کام کیے واپس نہ لوٹیں گے اور ان میں سے ایک شخص آگے بڑھا اور ایک لوہے کی سیخ حضرت عثمان کے سر پر ماری اور پھر حضرت عثمان کے سامنے جو قرآن کریم دھر ا ہوا تھا اس کو لات مار کر پھینک دیا۔قرآن کریم لڑھک کر حضرت عثمان کے پاس آگیا اور آپ کے سر پر سے خون کے قطرات گر کر اس پر آپڑے۔قرآن کریم کی بے ادبی تو کسی نے کیا کرنی ہے مگر ان لوگوں کے تقوی اور دیانت کا پردہ اس واقعہ سے اچھی طرح فاش ہو گیا۔جس آیت پر آپ کا خون گرا وہ ایک زبر دست پیشگوئی تھی جو اپنے وقت پر جا کر اس شان سے پوری ہوئی کہ سخت دل سے سخت دل آدمی نے۔