اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 295 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 295

حاب بدر جلد 3 295 حضرت عمر بن خطاب حضرت عمر کا غلام تھا۔آپ نے مجھ سے کہا مسلمان ہو جاؤ تا کہ مسلمانوں کے بعض معاملات میں تم سے مدد لے لیا کروں کیونکہ ہمارے لیے مناسب نہیں کہ مسلمانوں کے معاملے میں ان لوگوں سے مد دلوں جو غیر مسلم ہیں لیکن میں نے انکار کر دیا، غلام نے کہا۔تو آپ نے فرمایا لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ دین اسلام میں زبر دستی نہیں۔جب آپ کی وفات قریب ہوئی تو آپ نے مجھے آزاد کر دیا اور کہا تمہاری جہاں مرضی ہو چلے جاؤ۔575 جانوروں پر شفقت اور رحم دلی کا واقعہ۔آخنف بن قیس کا بیان ہے کہ ہم عمر بن خطاب کے پاس ایک وفد کی شکل میں فتح عظیم کی خوشخبری لے کر آئے۔آپ نے پوچھا آپ لوگ کہاں ٹھہرے ہو ؟ میں نے کہا فلاں جگہ۔پھر آپ میرے ساتھ چل پڑے۔ہماری سواری کے اونٹوں کے باڑے یعنی ان کے باندھنے کے مقام تک پہنچے اور ایک ایک کو غور سے دیکھنے کے بعد فرمانے لگے کیا تم اپنی سواریوں کے بارے میں اللہ سے خوف نہیں کھاتے ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ان کا بھی تم پر حق ہے ؟ انہیں کھلا کیوں نہ چھوڑ دیا کہ گھاس وغیرہ چرتے۔حضرت عمر نے ایک اونٹ دیکھا جس پر بے بسی اور بیماری کے آثار بالکل نمایاں تھے۔سالم بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے اپنا ہاتھ اونٹ کی پشت پر ایک زخم کے پاس رکھا اور خود کو مخاطب کر کے کہنے لگے کہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں تیرے بارے میں اللہ کے ہاں میری باز پرس نہ ہو۔577 پھر ایک روایت اسلم سے ہے۔وہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے فرمایا میرے 576 دل میں تازہ مچھلی کھانے کی خواہش پیدا ہوئی۔پرفا ( حضرت عمرؓ کے غلام کا نام ہے) سواری پر سوار ہوا اور آگے پیچھے چار میل تک دوڑا کر ایک عمدہ مچھلی خرید کر لایا۔پھر سواری کی طرف متوجہ ہوا اور اسے غسل دیا۔اتنے میں حضرت عمرؓ بھی آگئے اور فرمانے لگے چلو یہاں تک کہ آپ نے سواری کو دیکھ کر فرمایا۔تم اس پسینہ کو دھونا بھول گئے ہو جو اس کے کان کے نیچے ہے۔تم نے عمر کی خواہش پوری کرنے کے لیے ایک جانور کو تکلیف میں مبتلا کر ڈالا ہے۔اللہ کی قسم! عمر تیری اس مچھلی کو نہیں چکھے گا۔578 ایک دفعہ حضرت عمرؓ کے پاس گرمی کے موسم میں دو پہر کے وقت عراق سے ایک وفد آیا۔اس میں اختف بن قیس بھی تھے۔حضرت عمر سر پر پگڑی باندھ کر ز کوۃ کے ایک اونٹ کو تارکول وغیر ہ لگا رہے تھے۔آپ نے فرمایا اے اختف! اپنے کپڑے اتارو اور آؤ۔اس اونٹ میں امیر المومنین کی مدد کرو۔یہ زکوۃ کا اونٹ ہے۔اس میں یتیم، بیوہ اور مسکین کا حق ہے۔579 بارے میں عمر بن خ است عمر کا ایک یہودی نواع میں سے کسی شخص نے ان سے کیا تاہم روایت ہے۔طارق نے حضرت سے ! کتاب میں