اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 212 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 212

اصحاب بدر جلد 3 212 حضرت عمر بن خطاب جزیہ کی ادائیگی پر مصالحت کر لی۔اس کے بعد بزقہ کے لوگ خود بخود والی مصر کے پاس جاتے اور اپنا خراج جمع کرا آتے۔مسلمانوں کی طرف سے کسی کو ان کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔یہ لوگ مغرب میں سب سے زیادہ سادہ لوگ تھے۔ان کے یہاں کوئی فتنہ و فساد نہیں تھا۔عمر و بن عاص یہاں سے نکلے تو طرابلس کی طرف بڑھے جو محفوظ و مضبوط قلعوں والا شہر تھا۔وہاں رومی فوج کی بہت بڑی تعداد مقیم تھی۔اس نے مسلمانوں کی آمد کی خبر سن کر اپنے قلعوں کے دروازے بند کر دیے اور مجبوراً مسلمانوں کے محاصرے کو برداشت کرنے لگے۔یہ محاصرہ ایک ماہ تک جاری رہا لیکن مسلمانوں کو کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔طرابلس کے عقب میں شہر سے متصل سمند رہتا تھا اور سمند ر اور شہر کے درمیان کوئی فصیل قائم نہیں تھی۔مسلمانوں کی ایک جماعت کو یہ راز معلوم ہو گیا اور پیچھے سے سمندر کی طرف سے شہر میں داخل ہو گئی۔انہوں نے زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا۔اب فوج کے سامنے اپنی اپنی کشتیوں میں بھاگ کر پناہ لینے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں تھا۔وہ جو نہی پیچھے بھاگے پیچھے سے عمر و بن عاص نے ان پر حملہ کر دیا۔ان میں سے اکثر تہ تیغ کر دیے گئے سوائے یہ کہ جو کشتیوں سے بھاگ نکلے۔شہر میں موجود سامان اور جائیداد کو مسلمانوں نے مال غنیمت کے طور پر حاصل کیا۔طر ابلس سے نمٹنے کے بعد عمر و بن عاص نے اپنی فوج کو قرب و جوار میں پھیلا دیا۔آپ کا ارادہ تھا کہ مغرب کی سمت فتوحات مکمل کر کے تیونس اور افریقہ کا رخ کریں۔چنانچہ اس سلسلہ میں سید نا عمر بن خطاب کے پاس خط لکھا جبکہ حضرت عمرؓ اسلامی لشکر کو نئے محاذ پر بھیجنے سے ہچکچاتے تھے اور خاص طور پر ایسی حالت میں جبکہ شام سے طرابلس تک تیزی سے فتوحات کے باعث مفتوحہ علاقوں کی طرف سے ابھی بالکل مطمئن نہ ہوئے تھے۔اس لیے آپ نے اسلامی لشکر کو طرابلس میں ٹھہر جانے کا حکم دیا۔حضرت عمر فاروقی کے دورِ خلافت میں اسلامی سلطنت کا دائرہ دور دراز علاقوں کی سرحدوں کو چھونے لگا۔اسلامی سلطنت مشرق میں دریائے جیحون اور دریائے سندھ سے لے کر مغرب میں افریقہ کے صحراؤں تک اور شمال میں ایشیائے کو چک کے پہاڑوں اور آرمینیا سے لے کر جنوب میں بحر الکاہل اور نوبہ تک ایک عالمی ملک کی شکل میں دنیا کے نقشہ پر نمودار ہوئی۔توبہ مصر کا جنوبی علاقہ ہے جو بہت وسیع و عریض ہے جس میں مختلف اقوام ادیان اور ملل اور تہذیب و تمدن نے زندگی پائی تھی۔یعنی اسلامی حکومت نے مصر کے علاقے میں ہی نہیں بلکہ یہ جو پورا علاقہ مسلمانوں کے زیر اثر تھا اور وہاں مختلف اقوام تھیں، مختلف تہذیب و تمدن تھے ، ان سب نے اسلام کے سایہ عدل اور رحمت میں امن اور سکون کی زندگی گزاری۔وہ دین اسلام جس نے اپنے عقائد اور عبادات اور تہذیب و تمدن کے مخالفین کو ہزاروں مخالفتوں کے باوجود اس دنیا میں مکمل حقوق عطا کیے اور ان کی زندگی کا پورا پورا احترام کیا۔جنگوں کے دوران مسلمانوں کی عبادات کا رنگ کیسا ہوتا تھا؟ اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح 365