اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 213
اصحاب بدر جلد 3 213 حضرت عمر بن خطاب موعودؓ فرماتے ہیں کہ دنیا میں ہر چیز قدم بہ قدم ترقی کرتی ہے۔بڑے بڑے کام بھی یکدم نہیں ہو جایا کرتے بلکہ آہستہ آہستہ ہوتے ہیں۔رسول کریم صلی علیم کے زمانہ میں بھی سارے مسلمان تہجد نہیں پڑھتے تھے آہستہ آہستہ انہیں عادت ڈالی جا رہی تھی حتی کہ پھر وہ زمانہ آیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جنگ کے دنوں میں بھی جب کہ ثابت ہے کہ رسول کریم صل اللیل کی بھی بعض دفعہ ”چھوڑ دیتے تھے، مسلمان تہجد پڑھتے تھے۔ممکن ہے کہ رسول کریم ملی علیکم بھی جنگ کے دنوں میں تہجد کے لئے اٹھا کرتے ہوں مگر یہ ثابت ہے کہ بعض دفعہ ” نہیں بھی اٹھتے تھے لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں مسلمان جنگ کے دنوں میں بھی تہجد پڑھتے تھے حتی کہ ایک دفعہ جب ہر قل نے ان پر شب خون مارنے کا ارادہ کیا تو اس پر خوب بحث ہوئی اور آخر یہی فیصلہ ہوا کہ نہ مارا جائے کیونکہ مسلمانوں پر شب خون مارنا بے سود ہے۔اس لئے کہ وہ تو سوتے ہی نہیں بلکہ تہجد پڑھتے رہتے ہیں۔یہ بھی ترقی کی علامت ہے جو ابتدا میں تھی۔شروع شروع میں رسول کریم صلی للی کم کو اس کے لئے بہت تحریک و تحریص کی ضرورت پیش آتی تھی مگر بعد میں آہستہ آہستہ کمزور بھی اس کے عادی ہو گئے۔“366 خلفائے راشدین کے دور میں ہونے والی جنگوں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ”اسلام نے صرف مقابلہ کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ بعض مصلحتوں کے ماتحت ظلم کو برداشت کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔چنانچہ جہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اجازت ہے کہ اگر تمہیں کوئی شخص تھپڑ مارے تو تم بھی ایسے تھپڑ مارو۔وہاں اس نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر تم مقابلہ کرنا مصلحت کے خلاف سمجھو تو تم چپ رہو اور تھپڑ کا تھپڑ سے جواب مت دو۔پس وہ دلیل جو عام طور پر ان جنگوں کے متعلق پیش کی جاتی ہے اس سے حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان پر دشمن کے الزام کا دفاع تو ہو جاتا ہے۔یہ تو پتہ لگ جاتا ہے کہ حضرت ابو بکر نے ظلم نہیں کیا بلکہ قیصر نے ظلم کیا۔حضرت عمرؓ نے ظلم نہیں کیا بلکہ کسری نے ظلم کیا۔حضرت عثمان نے ظلم نہیں کیا بلکہ افغانستان اور بخارا کی سرحد پر رہنے والے قبائل اور کر دوں وغیرہ نے ظلم کیا لیکن اس امر کی دلیل نہیں ملتی کہ حضرت ابو بکر نے ان کو معاف کیوں نہ کر دیا؟ حضرت عمرؓ نے ان کو معاف کیوں نہ کر دیا؟ حضرت عثمان نے ان کو معاف کیوں نہ کر دیا؟ جب وہ مقابلے کے لئے نکلے تھے تو وہ قیصر سے کہہ سکتے تھے کہ تمہاری سپاہ سے فلاں غلطی ہو گئی ہے اگر اس کے متعلق تمہاری حکومت ہم سے معافی طلب کرے تو ہم معاف کر دیں گے اور اگر معافی طلب نہ کرے تو ہم لڑائی کریں گے۔انہوں نے قیصر کے سامنے یہ پیش نہیں کیا کہ تم سے یا تمہاری فوج کے ایک حصہ سے فلاں موقع پر ظلم ہوا ہے اور چونکہ ہماری تعلیم یہ بھی ہے کہ دشمن کو معاف کر دو اس لئے اگر تم معافی مانگو تو ہم معاف کرنے کے لئے تیار ہیں بلکہ جب اس نے ظلم کیا وہ “ (مسلمان) ”فوراً اس کے مقابلے کے لئے“ (جنگ کے لئے کھڑے ہو گئے اور پھر اس کے مقابلہ کو جاری رکھا اس مقابلے کو جاری رکھا۔” جب کسری کے سپاہیوں نے عراقی سرحد پر حملہ کیا تو سیاسی طور پر اس کے بعد صحابہ اور