اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 153
اصحاب بدر جلد 3 153 حضرت عمر بن خطاب جزیہ ساقط کر دیا جائے گا۔جو یہاں قیام کرے اس کے لیے یہ شرائط ہیں اور جو یہاں سے باہر جانا چاہے وہ امن میں ہے حتی کہ اپنے امن کے مقام پر چلا جائے۔یہ تحریر جندب نے لکھی اور اس کے گواہ ہیں بگیر بن عبد اللہ اور سیتماك بن خَرَشَة - 282 آرمینیا کی مصالحت کے بارے میں لکھا ہے کہ آذربائیجان کی فتح کے بعد بگیر بن عبد اللہ آرمینیا کی طرف بڑھے۔ان کی امداد کے لیے حضرت عمرؓ نے ایک لشکر سراقہ بن مالک بن عمرو کی سرکردگی میں بھجوایا اور اس مہم میں سپہ سالار اعلیٰ بھی سراقہ کو مقرر کیا اور ہر اول دستوں کی کمان عبد الرحمن بن ربیعہ کو دی۔ایک بازو کا افسر حذیفہ بن اسید غفَارِی کو بنایا اور یہ حکم دیا کہ جب یہ لشکر نکیر بن عبد اللہ کے لشکر سے جو آرمینیا کی طرف روانہ تھا جاملے تو دوسرے بازو کی کمان بکیر بن عبد اللہ کے سپرد کی جائے۔یہ لشکر روانہ ہوا اور ہر اول دستوں کے افسر عبد الرحمن بن ربیعہ سرعت سے نقل و حرکت کرتے ہوئے بکیر بن عبد اللہ کے لشکر سے آگے نکل کر باب مقام کے قریب جا پہنچے جہاں شَهْرَ بَرَازُ حاکم آرمینیا مقیم تھا۔یہ شخص ایرانی تھا۔اس نے خط لکھ کر عبدالرحمن سے امان حاصل کی اور عبدالرحمن کی خدمت میں حاضر ہوا۔وہ ایرانی تھا اور آرمینیوں سے اسے نفرت تھی۔اس نے عبد الرحمن کے پاس صلح کی پیشکش کی اور کہا کہ مجھ سے جزیہ نہ لیا جائے۔میں حسب ضرورت فوجی امداد دیا کروں گا۔یہاں یہ ایک اور طرز کا معاہدہ ہو رہا ہے۔خود آگیا ہے۔صلح کر لی تو جزیہ نہ لیا جائے۔میں مدد کرتا ہوں، فوجی مدد کروں گا۔سراقہ نے یہ تجویز منظور کرلی اور بغیر جنگ کے آرمینیا پر قبضہ ہو گیا۔حضرت عمر کی خدمت میں جب اس قسم کی صلح کی رپورٹ کی گئی تو نہ صرف یہ کہ آپ نے اسے منظور کر لیا بلکہ بڑی مسرت اور پسندیدگی کا اظہار فرمایا۔حضرت سراقہ نے جو تحریر صلح کی دی وہ یہ تھی کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔یہ وہ تحریر ہے جو امیر المومنین عمر بن خطاب کے گورنر سراقہ بن عمرو نے شهر براز اور آرمینیا اور آرمن کے باشندوں کو دی ہے وہ انہیں امان دیتے ہیں ان کی جانوں پر ، اموال پر اور مذہب پر کہ انہیں کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے۔وہ حملے کی صورت میں فوجی خدمت سر انجام دیں گے اور ہر اہم کام میں جب حاکم مناسب سمجھے مدد دیں گے اور جزیہ ان پر نہیں لگایا جائے گا بلکہ فوجی خدمت جزیہ کے بدلے میں ہو گی۔مگر جو فوجی خدمت نہ دیں ان پر اہل آذر بائیجان کی طرح جزیہ ہے اور راستہ بتانا ہے اور پورے ایک دن کی میزبانی ہے لیکن اگر ان سے فوجی خدمت کی جائے گی تو جزیہ نہ لیا جائے گا۔اگر فوجی خدمت نہ لی جائے گی تو جزیہ لگایا جائے گا۔پھر اس کے بھی گواہ ہیں عبد الرحمن بن ربیعہ اور سلمان بن ربیعه، بگیر بن عبد اللہ۔یہ تحریر جو ہے مرضی بن مقرن نے لکھی اور یہ بھی گواہ ہیں۔اس کے بعد سراقہ نے آرمینیا کے ارد گرد کے پہاڑوں کی طرف افواج بھیجنا شروع کیں۔چنانچہ بکیر بن عبد اللہ ، حبيب بن مَسْلَمَه، حذيفه بن اسید اور سلمان بن ربیعہ کی سرکردگی میں ان پہاڑوں کی طرف افواج روانہ ہوئیں۔بکیر بن عبد اللہ کو موقان بھیجا گیا۔حبیب کو تفلیس کی طرف روانہ کیا اور محذیفہ بن