اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 154
اصحاب بدر جلد 3 154 حضرت عمر بن خطاب اُسید کو لان کے پہاڑوں میں رہنے والوں کے مقابلے کے لیے بھیجا۔سراقہ کی ان افواج میں نمایاں کامیابی بکیر بن عبد اللہ کو ہوئی۔انہیں موقان بھیجا گیا تھا۔انہوں نے موقان کے باشندوں کو امن کی تحریر دے دی اور یہ تحریر یوں تھی جو بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع ہوتی ہے: 283 یہ وہ تحریر ہے جو بکیر بن عبد اللہ نے فتح کے پہاڑوں میں اہل موقان کو دی ہے۔ان کو امان ہے ان کی جانوں پر ، ان کے مالوں پر ، ان کے مذہب پر ، ان کی شریعتوں پر اس شرط پر کہ وہ جزیہ دیں جو ہر بالغ پر ایک دینار یا اس کی قیمت ہے۔ہر جگہ یہ جو معاہدے ہو رہے ہیں وہاں مذہب پہ آزادی ہے ، شریعت کی آزادی ہے۔جو الزام لگایا جاتا ہے کہ اسلام نے مذہب تلوار سے پھیلایا، کسی کو نہیں کہا گیا کہ زبر دستی اسلام لاؤ۔اور خیر خواہی کریں اور مسلمانوں کو راستہ دکھائیں اور ایک دن رات کی میز بانی کریں۔ان کے لیے امان ہو گی جب تک وہ اس عہد نامے پر قائم رہیں اور خیر خواہ رہیں اور ہمارے ذمہ ان سے وفاداری ہے۔واللهُ الْمُسْتَعَانُ اللہ مددگار ہے لیکن اگر وہ اس عہد کو ترک کر دیں اور کوئی قریب ان سے سرزد ہو تو ان کی امان باقی نہ ہو گی مگر یہ کہ وہ دھوکا کرنے والوں کو حکومت کے سپر د کر دیں ورنہ وہ بھی ان کے شریک سمجھے جائیں گے۔اس کے بھی گواہ مقرر تھے۔چار پانچ گواہوں نے دستخط کیے۔پھر فتح خراسان ہے جو بائیس ہجری میں ہوئی۔اس کی تفصیل یوں ہے کہ جنگ جلولاء کے بعد بادشاہ ایران یزدجر درے پہنچا۔وہاں کے حاکم آبَان جَازَوَیہ نے یزدجرد پر حملہ کر دیا اور یزدجرد کی مہر پر قبضہ کر کے اپنی مرضی کی دستاویز تیار کر لیں اور پھر وہ انگو ٹھی اسے واپس کر دی۔پھر آبان حضرت سعد کے پاس آیا اور وہ تمام چیزیں واپس کر دیں جو تحریری طور پر لکھی ہوئی تھیں۔یعنی جو دستاویز تیار کی گئی تھیں وہ انہیں دے دیں۔یزدجر درے سے اصفہان کی طرف روانہ ہوا۔آبان کو یزدجرد کا وہاں قیام پسند نہ آیا۔اس لیے یزدجرد کو گرمان کی طرف روانہ ہونا پڑا۔مقدس آگ اس کے ساتھ تھی۔یہ لوگ آگ پرست تھے تو آگ کو ساتھ لیے پھرتے تھے۔جو ان کی مقدس آگ تھی وہ اس کے ساتھ تھی۔پھر اس نے محراسان کا ارادہ کیا اور مزو میں آکر مقیم ہو گیا۔مقدس آگ کو وہاں روشن کر دیا اور اس کے لیے آتش کدہ تعمیر کروایا اور باغ لگوایا جو مزو سے دو فرسخ یعنی چھ میل کے فاصلے پر تھا۔یہاں آ کر وہ امن و امان سے رہنے لگا۔غیر مفتوحہ علاقوں کے اہل عجم سے خط و کتابت کی اور راہ ورسم بڑھانے لگا یہاں تک کہ وہ سب اس کے مطیع اور فرمانبردار ہو گئے۔نیز اس نے مفتوحہ علاقوں کے اہل فارس کو اور هرمزان کو بھی ور غلایا۔چنانچہ اس ورغلانے کے نتیجہ میں انہوں نے مسلمانوں سے اپنے وفا کے بندھن توڑ ڈالے اور بغاوت کر دی۔نیز اہل جبال اور اہل فیروزان نے بھی ان کی دیکھا دیکھی معاہدے توڑ دیے اور بغاوت کر دی۔جبال جو ہے یہ عراق میں ایک معروف علاقے کا نام ہے جو اَصْبَہان سے لے کر زنجان، قزوین، همدان، رے وغیرہ شہروں پر مشتمل ہے۔فیروزان أَصْبَهَان کی ایک بستی کا نام ہے۔بہر حال ان