اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 152
حاب بدر جلد 3 152 حضرت عمر بن خطاب تھا۔قومیس والوں نے کوئی مزاحمت نہ کی اور سوئید نے ان لوگوں کے لیے امان اور صلح کی تحریر لکھ دی۔اس کے ساتھ ہی جرجان جو طبرستان اور خُراسان کے درمیان ایک بڑا شہر تھا اور طبرستان کے لوگوں نے بھی سوید کی طرف اپنے لوگ بھیجے اور انہوں نے بھی جزیہ پر صلح کر لی۔سوئیں نے سب علاقے کے لوگوں کے لیے امان اور صلح کی تحریر لکھ کر دے دی۔281 کوئی مذہب کی بات نہیں ہوئی۔جنہوں نے صلح کی ان کے ساتھ صلح کرلی گئی۔پھر فتح آذر بائیجان ہے۔یہ بھی بائیس ہجری کی ہے۔حضرت عمر کی طرف سے آذر بائیجان کی مہم کا جھنڈ ا عتبہ بن فرقد اور بگیر بن عبد اللہ کو دیا گیا تھا جو پہلے بیان ہو چکا ہے۔اور حضرت عمرؓ نے ہدایت کی تھی کہ دونوں الگ الگ اطراف سے حملہ آور ہوں۔بگیر بن عبد اللہ لشکر لے کر بڑھے اور جزمِیذَان کے قریب رستم کا بھائی اسفنديَاذْ بن فرخزاد جو وَ اجْرُوذ کے معرکہ میں شکست کھا کر بھاگا تھا مقابلہ کے لیے نکلا۔یہ بگیر کا آذر بائیجان میں پہلا معرکہ تھا۔لڑائی ہوئی۔دشمن کو شکست ہوئی اور اسفند یاڈ گرفتار ہو گیا۔اسفند یاذ نے اسلامی سالار بگیر سے پوچھا کہ آپ صلح پسند کرتے ہیں یا جنگ؟ بگیر نے جواب دیا کہ صلح۔وہ بولا تو پھر آپ مجھے اپنے پاس ہی رکھیں۔اپنی قید میں لے لیا ہے تو اپنی قید میں رکھو۔جب تک میں ان لوگوں کا نمائندہ بن کر آپ سے صلح نہ کروں گا یہ لوگ کبھی مصالحت نہیں کریں گے۔جنگ لڑتے رہیں گے جبکہ ارد گرد کے پہاڑوں میں منتشر ہو جائیں گے یا یہ لوگ قلعوں میں محصور ہو جائیں گے۔بگیر نے اسفندیاڈ کو اپنے پاس ہی رکھا۔آہستہ آہستہ اور علاقہ ان کے زیر اقتدار آتا چلا گیا۔عتبہ بن فرقد نے دوسری جانب سے حملہ کیا۔اسفند یاذ کا بھائی بہرام ان کے راستے میں حائل ہوا مگر لڑائی کے بعد شکست کھا کر بھاگ گیا۔اسفند یاز نے جب یہ خبر سنی تو کہنے لگا کہ اب لڑائی کی آگ بجھ گئی اور صلح کا وقت آگیا۔چنانچہ اس نے صلح کر لی اور آذربائیجان کے باشندوں نے اس کا ساتھ دیا اور یہ صلح نامہ لکھا گیا۔اس کے الفاظ یہ تھے جو بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع ہوتا ہے۔یہ تحریر ہے جو امیر المومنین عمر بن خطاب کے عامل عتبه بن فرقد آذربائیجان کے باشندوں کو دیتے ہیں۔آذربائیجان کے میدانی علاقے اور پہاڑی علاقے اور سرحدی اور کناروں کے علاقے کے رہنے والوں اور تمام مذاہب والوں کے لیے یہ تحریر ہے۔ان سب کو امان ہے اپنے نفوس کے لیے، اپنے اموال کے لیے، اپنے مذاہب کے لیے ، اپنی شریعتوں کے لیے اس شرط پر کہ وہ جزیہ ادا کریں اپنی طاقت کے مطابق۔جو بھی ان کی طاقت ہے اس کے مطابق جزیہ ادا کریں۔لیکن جزیہ نہ بچے پر ہو گا نہ عورت پر نہ لمبے بیمار پر جو ایک مستقل بیمار ہے جس کے پاس مال نہیں، نہ اس عابد گوشہ نشین پر جس کے پاس کچھ مال نہیں اور یہ یہاں کے باشندوں کے لیے بھی ہے اور ان کے لیے بھی جو باہر سے آکر ان کے ساتھ آباد ہو جائیں۔آئندہ آنے والوں اور وہاں آباد ہونے والوں کے لیے بھی ہے۔ان کے ذمہ اسلامی لشکر کی ایک دن رات مہمان نوازی ہے اور اس کو راستہ بتانا ہے۔اگر کسی سے کوئی فوجی خدمت لی جائے گی تو اس سے