اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 115
محاب بدر جلد 3 115 حضرت عمر بن خطاب و حضرت عبد الرحمن کا یہ مشورہ مل گیا تو پھر اس کے بعد چیدہ لوگوں سے مشورہ کیا اور اس کے بعد ایک جلسہ عام منعقد کیا جس میں تقریر کرتے ہوئے حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اسلام پر جمع کر دیا ہے اور ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی الفت پیدا کر دی ہے اور اسلام نے سب کو بھائی بھائی بنا دیا ہے اور مسلمانوں کی باہمی حالت جسم کی طرح ہے کہ ایک حصہ کو تکلیف ہو تو دوسرا بھی اس کو محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔لہذا مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ ان کے معاملات باہمی مشورے سے فیصل ہوا کریں۔خصوصاً ان میں سے سمجھدار لوگوں کا مشورہ لے لیا جایا کرے اور لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ جس امر یہ متفق اور راضی ہو جائیں اس کی پیروی اور اطاعت کریں اور امیر کے لیے ضروری ہے کہ وہ لوگوں میں سے اہل الرائے کے مشورے کو منظور کرے اور لوگوں کے متعلق اُن کی جو رائے ہو اور جنگوں کے متعلق جو اُن کی تدبیر ہو۔حضرت عمرؓ نے فرمایا اے لوگو! میں تمہاری طرح ایک فرد بن کر تمہارے ساتھ ہونا چاہتا تھا، جنگ میں شامل ہونا چاہتا تھا مگر تمہارے اہل الرائے اشخاص نے مجھے اس سے روکا ہے۔اس لیے اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں نہ جاؤں اور کسی اور شخص کو بھیج دوں۔2 202 حضرت سعد بن ابی وقاص کمانڈر بنتے ہیں اس وقت حضرت عمرہ کسی شخص کی تلاش میں تھے۔اسی دوران ان کی خدمت میں حضرت سعد کا خط آیا۔حضرت سعد اس وقت نجد کے صدقات پر مامور تھے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ مجھے کوئی آدمی بتاؤ جس کو کمانڈر بنایا جائے۔حضرت عبد الرحمن نے کہا کہ آدمی تو آپ کو مل گیا ہے۔حضرت عمرؓ نے پوچھا وہ کون ہے ؟ حضرت عبد الرحمن نے کہا کہ کچھار کا شیر سعد بن مالک یعنی سعد بن ابی وقاص۔باقی لوگوں نے بھی اس مشورے کی تائید کی۔203 تاریخ طبری میں ہے کہ حضرت عمرؓ نے حضرت سعد کو امیر مقرر فرما کر نصیحت فرمائی کہ اے سعد ! تم کو یہ گمان نہ ہو کہ تم کو رسول اللہ صلی اللہ کا ماموں اور صحابی کہا جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا بلکہ برائی کو نیکی سے مٹاتا ہے۔اللہ تعالیٰ اور بندے کے در میان اطاعت کے سوا اور کوئی رشتہ نہیں ہے۔روانگی کے وقت حضرت عمرؓ نے حضرت سعد کو یہ نصیحت فرمائی اور آپ نے فرمایا میری نصیحت کو یاد رکھنا۔ایک اور نصیحت یہ فرمائی کہ تم نے ایک مشکل اور سخت کام کا بیڑہ اٹھایا ہے۔پس اپنے نفس کو اور اپنے ساتھیوں کو نیکی کی عادت ڈالو اور اس کے ذریعہ فتح چاہو اور یاد رکھو کہ ہر عادت ڈالنے کا ایک ذریعہ ہوتا ہے اور نیکی کی عادت ڈالنے کا ذریعہ صبر ہے۔صبر کرو گے تو نیکی کی عادت پڑے گی۔پس ہر مصیبت جو تمہیں پہنچے اور تکلیف جو تم پر آئے اس پر صبر کرو۔اس سے اللہ تعالیٰ کا خوف تمہیں حاصل ہو گا۔204 پھر آپ نے فرمایا: اپنے ساتھی مسلمانوں کو لے کر شراف سے ایران کی طرف مارچ کرو۔پیرافی