اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 114
اصحاب بدر جلد 3 114 حضرت عمر بن خطاب تھا۔تمام قلعوں اور فوجی چھاؤنیوں کو مستحکم کر دیا گیا۔حضرت منی نے جب اہل فارس کی ان سرگرمیوں سے حضرت عمر کو مطلع کیا تو حضرت عمر نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! میں اہل عجم کے بادشاہوں کا مقابلہ عربوں کے امراء اور بادشاہوں سے کراؤں گا۔چنانچہ ہر رئیس، صائب الرائے، معزز، خطیب اور شاعر کو مقابلے کے لیے روانہ کیا گیا نیز حضرت متنی کو حکم دیا کہ وہ بجھی علاقے سے نکل کر ان ساحلی علاقوں میں آجائیں جو تمہاری اور ان کی حدود کے پاس ہیں۔قبیلہ ربیعہ اور مصر کے لوگوں کو بھی ساتھ شامل کرنے کا حکم دیا۔200 حضرت عمر فعالشکر کی کمان خود سنبھالنا 201 حضرت عمرؓ نے عرب میں چاروں طرف نقیب بھیجے اور سر داروں اور رؤساء کو مکہ میں جمع ہونے کے لیے فرمایا۔چونکہ حج قریب آچکا تھا تو حضرت عمر حج کے لیے روانہ ہوئے۔حج کے دوران عرب قبائل ہر طرف سے جمع ہو گئے۔جب آپ حج سے واپس تشریف لائے تو مدینہ میں ایک بڑا لشکر جمع تھا۔حضرت عمر نے اس لشکر کی کمان خود سنبھالی اور حضرت علی کو مدینہ میں امیر مقرر کر کے روانہ ہوئے اور صرار میں پڑاؤ ڈالا۔(صرار مدینہ سے تین میل کے فاصلہ پر ایک چشمہ ہے ) کہتے ہیں کہ ابھی حضرت عمرؓ کا خود محاذ جنگ پر جانے کا معین فیصلہ نہیں ہو ا تھا۔لشکر لے کے روانہ تو ہو گئے تھے لیکن فیصلہ نہیں کیا تھا کہ خود جائیں گے یا آگے جا کے کسی اور کو کمانڈر بنا کے روانہ کریں گے۔بہر حال تاریخ طبری میں ہے کہ حضرت عمرؓ نے لوگوں سے مشورہ کیا۔سب نے آپ کو فارس جانے کا مشورہ دیا۔انہوں نے کہا سارے لشکر کو اپنی کمان میں ہی لے کر جائیں۔صرار آنے تک حضرت عمرؓ نے کسی سے مشورہ نہیں کیا تھا لیکن حضرت عبد الرحمن ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے آپ کو جانے سے روکا۔باقیوں نے تو کہا کہ ضرور لشکر لے کے جائیں لیکن حضرت عبد الرحمن نے کہا نہیں۔حضرت عبد الرحمن نے کہا کہ آج سے پہلے میں نے نبی کریم ملی ایم کے سوا کسی پر اپنے ماں باپ کو قربان نہیں کیا اور نہ آپ مسایل کم کے بعد کبھی ایسا کروں گا مگر آج میں کہتا ہوں کہ اے وہ کہ جس پر میرے ماں باپ فدا ہوں ! اس معاملہ کا آخری فیصلہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں۔حضرت عمر کو انہوں نے کہا اور پھر انہوں نے حضرت عمرؓ کو مشورہ دیا کہ آپ صرار مقام پر ہی رک جائیں اور ایک بڑے لشکر کو یہاں سے روانہ فرما دیں۔پھر انہوں نے حضرت عمر کو کہا کہ شروع سے لے کر اب تک آپ دیکھ چکے ہیں کہ آپ کے لشکروں کے متعلق اللہ تعالیٰ کا کیا فیصلہ رہا ہے۔اگر آپ کی فوج نے شکست کھائی تو وہ آپ کی شکست کی مانند نہ ہو گی۔اگر ابتدا میں آپ شہید ہو گئے یا شکست کھا گئے تو مجھے اندیشہ ہے کہ پھر کبھی مسلمان نہ تکبیر پڑھ سکیں گے اور نہ ہی لا الہ الا اللہ کی گواہی دے سکیں گے۔چیدہ اور برگزیدہ اہل الرائے اصحاب کی مجلس شوریٰ کے بعد حضرت عمرؓ نے ایک عام جلسہ منعقد کیا۔جب ان