اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 113
اصحاب بدر جلد 3 113 حضرت عمر بن خطاب شہادت گناہوں کی معافی کے لیے کفارہ بن جاتی ہے۔اس جنگ کے ذکر میں مورخین ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جس سے مسلمان خواتین کی ہمت و دلیری پر روشنی پڑتی ہے۔میدانِ جنگ سے دور مقام قوادس پر اسلامی لشکر کی خواتین اور بچوں کا کیمپ تھا۔لڑائی کے خاتمہ پر جب مسلمانوں کا ایک دستہ گھوڑے دوڑاتا ہوا کیمپ کے سامنے پہنچا تو مسلمان خواتین کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ یہ دشمن کی فوج ہے جو ہم پر حملہ کرنے آئی ہے۔انہوں نے بڑی تیزی سے بچوں کو تو گھیرے میں لے لیا اور خود پتھر اور چوہیں لے کر مرنے مارنے پر تل گئیں۔فوجی دستہ کے قریب پہنچنے پر ان کو یہ معلوم ہوا کہ یہ تو مسلمان ہیں تو اس پارٹی کے راہنما عمر و بن عبد المسیح نے بے ساختہ کہا کہ اللہ کے لشکر کی خواتین کو یہی زیبا ہے۔معرکہ بویب ختم ہو گیا مگر اپنے پیچھے گہرے نشانات اور گہرے اثرات چھوڑ گیا۔ایران کی اسلامی مہم میں اس سے قبل کبھی اتنا جانی نقصان نہ ہوا تھا۔اس معرکہ کا یہ اثر ہوا کہ عراق کے اکثر نواح میں مسلمانوں کے پاؤں مضبوط ہو گئے اور سواد عراق پر دجلہ تک ان کا قبضہ ہو گیا اور معمولی جھڑپوں کے بعد ارد گرد کے علاقوں پر بھی مسلمان از سر نو قابض ہو گئے جو پہلے چھوڑ گئے تھے اور ایرانی افواج نے اس میں خیریت دیکھی کہ پسپا ہو کر دجلہ کے دوسرے کنارے پر جااتریں۔اس فتح کے بعد مسلمان عراق کے مختلف علاقوں میں پھیل گئے۔9 199 جنگ قادسیہ پھر جنگ قادسیہ ہوئی جو چودہ ہجری میں ہوئی۔قادسیہ موجودہ عراق میں ایک مقام ہے اور کو فہ سے پینتالیس میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔چودہ ہجری میں حضرت عمر فاروق کے دورِ خلافت میں مسلمانوں اور ایرانیوں کے درمیان قادسیہ کے مقام پر ایک فیصلہ کن جنگ لڑی گئی جس کے نتیجہ میں ایرانی سلطنت مسلمانوں کے قبضہ میں آگئی۔جب اہل فارس کو مسلمانوں کے کارناموں کا علم ہو ا تو انہوں نے رستم اور فیرز ان سے جو اُن کے دوسر دار تھے کہا کہ تم دونوں آپس میں اختلاف کرتے رہے اور تم دونوں نے اہل فارس کو کمزور کر کے دشمن کے حوصلے بڑھا دیے ہیں۔اب معاملہ اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ اگر ہم یونہی رہتے ہیں تو ایر ان تباہ ہو جائے گا کیونکہ بغداد، سابات جو مدائن کے قریب مقام ہے اور تکریت جو بغداد اور موصل کے درمیان بغداد سے تیس فرسخ یانوے میل کے فاصلے پر ایک مشہور شہر ہے۔اس کے بعد اب محض مدائن شہر ہی باقی بچا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر تم دونوں متفق نہ ہوئے تو پہلے ہم تم دونوں کو ہلاک کریں گے پھر خود ہلاک ہو کر سکون حاصل کر لیں گے یعنی پھر ہم جنگ خود ہی کریں گے۔رستم اور فیرزان نے بوران کو معزول کر کے یزدجرد کو تخت پر بٹھا دیا جو اس وقت اکیس سال کا