اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 112 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 112

اب بدر جلد 3 112 حضرت عمر بن خطاب کے پاس ٹھہر کر جنگ کے بارے میں ہدایات جنگ دیں اور ولولہ خیز الفاظ میں ان کے حوصلے بڑھاتے ہوئے یوں فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ آج عرب پر تمہاری وجہ سے داغ نہیں لگے گا۔خدا کی قسم ! میں اپنی ذات کے لیے آج وہی کچھ پسند کرتا ہوں جو تم میں سے عام آدمی کے لیے میری نظر میں پسندیدہ ہے یعنی میں اور تم برابر ہیں۔اور سرفروشانِ اسلام نے پر جوش الفاظ سے اپنے محبوب قائد کی آواز پر پورے جوش سے لبیک کہا اور کیوں نہ کہتے جبکہ اس نے اپنے ہر قول و فعل میں ہمیشہ ہی ان سے نہایت منصفانہ سلوک روارکھا تھا اور راحت و تکلیف دونوں میں ان کا ساتھ دیا تھا اور کسی کی مجال نہ تھی کہ وہ ان کی کسی بات پر انگلی رکھ سکے۔198 حضرت مشکی نے لشکر کو ہدایت کی کہ میں تین تکبیریں کہوں گا۔تم تیار اور مستعد ہو جانا اور چوتھی تکبیر سنتے ہی دشمن پر حملہ کر دینا۔حضرت ملنی نے پہلی مرتبہ نعرہ تکبیر بلند کیا تو ایرانی فوج نے جلدی سے حملہ کر دیا۔اس لیے مسلمانوں نے بھی جلدی کی اور پہلی تکبیر کے بعد ہی قبیلہ بنو عجل کے بعض افراد اپنی صفوں سے نکل کر مقابلہ کے لیے بڑھے۔اس طرح صفوں میں خلل پیدا ہو گیا۔حضرت علی نے ایک شخص کو پیغام دے کر ان کی طرف بھیجا کہ پیغام یہ تھا کہ امیر لشکر سلام کہتا ہے اور کہتا ہے کہ آج مسلمانوں کو رسوا نہ کرو۔اس کے بعد وہ قبیلہ سنبھل گیا۔پھر ایک شدید جنگ کے بعد ایرانیوں میں بھگدڑ پڑ گئی۔اس جنگ میں ایرانیوں کے مقتولین کی تعداد ایک لاکھ بیان کی جاتی ہے۔ایرانی لشکر کا سالار مہران بھی اس جنگ میں قتل ہوا۔اس جنگ کو يَوْمُ الْأَعْمار بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس جنگ میں سو لوگ ایسے تھے جن میں سے ہر ایک نے دس دس آدمیوں کو قتل کیا تھا۔ایرانی لشکر شکست کھا کر پل کی طرف بھاگا تا کہ دریا عبور کر کے اپنے محفوظ علاقے میں چلا جائے لیکن حضرت مینی نے اپنا دستہ لے کر ان کا تعاقب کیا اور پل پار کرنے سے پہلے ہی ان کو گھیر لیا اور دریا کا پل توڑ کر بہت سے ایرانی فوجیوں کو قتل کر دیا۔بعد میں حضرت معنی افسوس کا اظہار فرمایا کرتے تھے کہ میں نے شکست خوردہ لوگوں کا تعاقب کیوں کیا؟ مجھے یہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔آپ فرماتے کہ مجھ سے بڑی غلطی ہوئی ہے۔میرے لیے زیبا نہیں کہ میں ان سے مقابلہ کروں جو مقابلے کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔آئندہ میں کبھی ایسا نہیں کروں گا اور پھر آپ نے مسلمانوں کو نصیحت کی کہ اے مسلمانو! تم بھی کبھی ایسی حرکت نہ کرنا اور اس معاملہ میں میری پیروی نہ کرنا۔اس معرکے میں یہ غلطی میرے سے ہو گئی کہ دوڑتے ہوؤں کا تعاقب کیا یہ نہیں ہونا چاہیے۔اصل میں تو یہ اسلامی اخلاق ہیں۔اس معرکے میں اسلامی لشکر کے بعض بڑے بڑے کردار مثلاً خالد بن ہلال اور مسعود بن حارثہ بھی شہید ہوئے تھے۔حضرت مٹی نے شہداء کا جنازہ پڑھایا اور فرمایا خدا کی قسم! میرے رنج و غم کو یہ بات ہلکا کرتی ہے کہ یہ لوگ اس جنگ میں شامل ہوئے اور انہوں نے جرآت اور بہادری سے کام لیا اور ثابت قدم رہے اور ان کو کسی قسم کی گھبراہٹ اور پریشانی نہیں ہوئی اور پھر یہ بات میرے غم کو ہلکا کرتی ہے کہ