اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 372
اصحاب بدر جلد 3 372 حضرت عثمان بن عفان 709 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے دامادوں کے حق میں جو دعا ہے اس کی بھی ایک روایت ملتی ہے۔الاستیعاب میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب عز و جل سے یہ دعامانگی ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کو آگ میں داخل نہ کرے جو میر اداماد ہو یا جس کا میں داماد ہوں۔حضرت عثمان کے لباس اور حلیہ کے بارے میں محمود بن لبید بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عثمان بن عفان کو ایک خچر پر اس حالت میں سوار دیکھا کہ آپ کے جسم پر دو زرد چادریں تھیں۔حكم بن صلت بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت عثمان کو خطاب کرتے ہوئے دیکھا جبکہ آپ پر سیاہ رنگ کی چادر تھی اور آپ نے مہندی کا خضاب لگایا ہوا تھا۔سُلیم ابو عامر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عثمان بن عفان پر ایک یمنی چادر دیکھی جس کی قیمت سو درہم تھی۔محمد بن عمر بیان کرتے ہیں کہ میں نے عمرو بن عبد اللہ ، نحر وہ بن خالد اور عبد الرحمن بن ابو زناد سے حضرت عثمان کے حلیہ وغیرہ کے بارے میں پوچھا۔ان سب نے بغیر اختلاف کے کہا کہ آپ نہ پست قد تھے نہ ہی بہت لمبے۔آپؐ کا چہرہ خوبصورت، جلد نرم، داڑھی گھنی اور لمبی، رنگ گندمی، جوڑ مضبوط ، کندھے چوڑے، سر کے بال گھنے تھے۔آپ داڑھی کو خضاب سے پیلا کرتے تھے۔واقد بن ابو یاسر بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان نے اپنے دانتوں کو سونے کی تار سے باندھا ہوا تھا۔موسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان کو دیکھا کہ آپ جمعہ کے روز باہر تشریف لاتے تو آپ پر دوزر د چادریں ہوتیں۔پھر آپؐ منبر پر تشریف رکھتے اور مؤذن اذان دیتا۔پھر جب مؤذن خاموش ہو جاتا تو ایک ٹیڑھی مٹھ والے عصا کا سہارا لے کر کھڑے ہوتے اور عصا ہاتھ میں لیے ہوئے خطبہ دیتے۔پھر آپے منبر سے اترتے اور مؤذن اقامت کہتا۔حسن بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان کو مسجد میں اپنی چادر کا تکیہ بنا کر سوتے ہوئے دیکھا۔710 موسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں کہ جمعہ کے روز حضرت عثمان نے ایک عصا کا سہارا لیا ہوا تھا۔آپ تمام لوگوں سے زیادہ خوبصورت تھے۔آپؐ پر دو زرد رنگ کے کپڑے ہوتے تھے ایک چادر اور ایک تہ بند یہاں تک کہ آپ منبر پر آتے اور اس پر بیٹھ جاتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک انگوٹھی تھی جس پر محمد رسول اللہ لکھا ہوا تھا، کندہ تھا۔وہ آنحضرت صلی علی کم استعمال کیا کرتے تھے۔اس کے بارے میں روایت آتی ہے۔حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روم کے بادشاہ کی طرف خط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ اگر اس خط پر کوئی مہر نہ لگی ہوئی ہو گی تو آپ کا خط نہیں پڑھیں گے۔اس پر آپ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی جس پر یہ نقش تھا محمد رسول اللہ راوی کہتے ہیں گویا میں ابھی بھی انگو تھی کی سفیدی کو آپ کے ہاتھ میں دیکھ رہا ہوں۔712 وہ بات مجھے اتنی تازہ ہے۔711