اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 373
حاب بدر جلد 3 373 حضرت عثمان بن عفان حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی آپ کے ہاتھ میں رہی۔آپ کے بعد حضرت ابو بکر کے ہاتھ میں رہی۔حضرت ابو بکر کے بعد حضرت عمرؓ کے ہاتھ میں رہی۔پھر جب حضرت عثمان کا دور آیا تو ایک بار اریس نامی کنویں پر آپ بیٹھے تھے۔راوی کہتے ہیں کہ آپ نے وہ انگوٹھی نکالی اور اس سے کھیلنے لگے۔یعنی انگلی میں پھیر نے لگ گئے ہوں گے تو وہ گر گئی۔* راوی کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عثمان کے ہمراہ تین روز تک اسے تلاش کیا اور کنویں کا سارا پانی بھی باہر نکالا لیکن وہ انگوٹھی نہ مل سکی۔اس انگوٹھی کے گم ہونے کے بعد حضرت عثمان نے اسے ڈھونڈ کر لانے والے کے لیے مال کثیر دینے کا اعلان کیا اور اس انگوٹھی کے گم ہونے کا آپ کو بہت زیادہ غم ہوا۔جب آپ اس انگوٹھی کے ملنے سے ، اس کی تلاش سے مایوس ہو گئے تو آپ نے ویسی ہی چاندی کی ایک اور انگوٹھی بنانے کا حکم دیا۔چنانچہ بالکل ویسی ہی ایک انگوٹھی تیار کی گئی جس کا نقش بھی محمد رسول اللہ تھا۔وہ انگو ٹھی آپ نے اپنی وفات تک پہنے رکھی۔آپ کی شہادت کے وقت وہ انگوٹھی کسی نامعلوم شخص نے لے لی۔713 عشرہ مبشرہ میں بھی آپے شامل تھے۔حضرت عبد الرحمن بن آخش سے مروی ہے کہ وہ مسجد میں تھے کہ ایک شخص نے حضرت علی کا بے ادبی سے ذکر کیا۔اس پر حضرت سعید بن زید کھڑے ہو گئے اور کہا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ یقیناً میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ دس آدمی جنت میں جائیں گے۔نبی صلی اللہ علیہ و سلم جنت میں ہوں گے۔ابو بکر جنت میں ہوں گے۔عمرؓ جنت میں ہوں گے۔عثمان جنت میں ہوں گے۔علی جنت میں ہوں گے۔طلحہ جنت میں ہوں گے۔عبد الرحمن بن عوف جنت میں ہوں گے۔زبیر بن عوام جنت میں ہوں گے۔سعد بن مالک جنت میں ہوں گے اور اگر میں چاہوں تو دسویں کا نام بھی لے سکتا ہوں۔راوی کہتے ہیں کہ لوگوں نے کہا کہ دسواں کون ہے ؟ حضرت سعید بن زید کچھ دیر خاموش رہے۔اس پر لوگوں نے پھر پوچھا کہ دسواں کون ہے ؟ تو انہوں نے کہا سعید بن زید یعنی میں خود ہوں۔714 پہلے بھی ایک جگہ پہ یہ روایت ان کے ضمن میں بیان کر چکا ہوں۔715 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت عثمان کے ساتھ جنت میں رفاقت کے بارے میں آتا ہے۔حضرت طلحہ بن عبید اللہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا ایک رفیق ہوتا ہے اور میرا رفیق یعنی جنت میں میر اسا تھی، رفیق عثمان ہو گا۔716 حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک گھر میں مہاجرین کے ایک گروہ کے ساتھ تھے جن میں ابو بکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ ، زبیر ، عبد الرحمن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر شخص اپنے ہم کفو کے ہمراہ کھڑا ہو جائے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عثمان کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور ان سے معانقہ کیا اور بعض روایات کے مطابق یہ انگو ٹھی حضرت عثمان سے نہیں بلکہ ان کے خاتم بر دار حضرت معیقیب سے گری تھی۔( صحیح مسلم، کتاب اللباس حدیث 2091 / اسد الغابہ زیر اسم ”معیقیب بن ابی فاطمہ)