اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 371 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 371

محاب بدر جلد 3 703 702 371 704 حضرت عثمان بن عفان حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم احد پر چڑھے جبکہ آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر اور حضرت عثمان تھے۔احد پہاڑ ہلنے لگا تو آپ نے فرمایا احد ٹھہر جا۔راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ نے اس پر اپنا پاؤں بھی مارا اور فرمایا تم پر ایک نبی اور ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔2 حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فتنہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ شخص اس فتنہ میں حالت مظلومیت میں مارا جائے گا۔یہ آپ نے حضرت عثمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔3 حضرت عثمان نے جو ترکہ چھوڑا تھا اس کے بارے میں جو ذکر ملتا ہے وہ یہ ہے۔عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بیان کرتے ہیں کہ جس روز حضرت عثمان شہید کیے گئے اس روز آپ کے خزانچی کے پاس آپ کے تین کروڑ پانچ لاکھ درہم اور ڈیڑھ لاکھ دینار پڑے تھے۔وہ سب لوٹ لیے گئے۔نیز آپ نے رَبزَهُ مقام پر ایک ہزار اونٹ چھوڑے ہوئے تھے۔ربذہ حجاز کے رستہ میں مدینہ سے تین دن کی مسافت پر واقع ایک بستی ہے۔اسی طرح برادیس اور خیبر اور وادی القریٰ میں دو لاکھ دینار کے صدقات چھوڑے جن سے آپ صدقہ دیا کرتے تھے۔پہلے یہ بھی ذکر ہو چکا ہے کہ آپؐ نے فرمایا کہ میں امیر آدمی تھا اور اب میرے پاس صرف دو اونٹ ہیں جو حج کے لیے میں نے رکھے ہوئے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ جو بات کی جارہی ہے یہ اس وقت کی ہو جب قومی خزانے میں اس قدر مال ہو جو راوی نے حضرت عثمان کی ذات کی طرف منسوب کر دیا ہے اور یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کے ذاتی بھی ہوں تو اپنی ذات پر اب خرچ نہیں کرتے تھے بلکہ صدقات اور قومی ضروریات پر ہی خرچ کیا کرتے تھے۔بہر حال ایک روایت ہے جو میں نے بیان کی۔اس سے پہلے ان کے اپنے حوالے سے بھی ایک روایت بیان ہو چکی ہے اور خزانے کی حفاظت کے لیے جو آدمی مقرر کیے تھے ان خزانچیوں سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ قومی خزانہ تھا جس کی حفاظت کے لیے آپ نے مقرر کیا تھا۔706 صحابہ حضرت عثمان کے واقعہ شہادت کے بارے میں جو بیان کرتے ہیں وہ اس طرح ہے۔حضرت علی سے پوچھا گیا کہ آپؐ ہمیں حضرت عثمان کے بارے میں کچھ بتائیں۔آپؐ نے فرمایا وہ تو ایسا تو تھا جو ملا اعلیٰ میں بھی ذوالنورین کہلاتا تھا۔707 اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی وہ ذوالنورین تھا۔حضرت علی نے فرمایا حضرت عثمان ہم میں سب سے بڑھ کر صلہ رحمی کرنے والے تھے۔حضرت عائشہ کو جب حضرت عثمانؓ کی شہادت کی خبر ملی تو انہوں نے فرمایا: ان لوگوں نے آپ کو قتل کر دیا حالانکہ آپ ان سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے اور ان سب سے زیادہ رب کا تقوی اختیار کرنے والے تھے۔708 705 شخص