اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 328 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 328

اصحاب بدر جلد 3 328 حضرت عثمان بن عفان رسول اللہ صلی الل ولم نے اسے پناہ دے دی۔634 آنحضرت مصل الم کا ارشاد کہ قتل کرنا تھا کیوں نہیں قتل کیا؟ اس کے بارے میں ایک وضاحت یہ بھی کی جاتی ہے کہ اس روایت میں آنحضرت صلی ایم کا صحابہ کو یہ فرمانا کہ جب میں نے بیعت لینے میں تامل کیا تو تم لوگوں نے اس کو قتل کیوں نہ کر دیا محل نظر ہے کیونکہ اگر نبی کریم صلی اللہ تم اس کی بیعت نہ لینا چاہتے اور اس کے قتل کے فیصلہ پر قائم رہنا پسند فرماتے تو اس کو قتل کرنے کا ارشاد فرما سکتے تھے۔آپ فاتح تھے ، سر بر او ریاست تھے اور اس کے قتل کا فیصلہ بھی مبنی بر انصاف تھا۔اس لیے ہو سکتا ہے کہ اس روایت میں کسی راوی کی اپنی رائے یا خیال شامل ہو گیا ہو۔مزید بر آں یہ روایت بخاری اور مسلم میں موجود نہیں ہے اور ابو داؤد میں اسی مضمون کی ایک روایت حضرت ابن عباس سے مروی ہے جس کا ذکر ہو چکا ہے اور اس میں قتل کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔حضرت مصلح موعود سورۃ المؤمنون کی آیت نمبر 15 کی تفسیر کرتے ہوئے اس واقعہ کا تذکرہ یوں بیان کرتے ہیں کہ صا الله اس آیت کے ساتھ ایک تاریخی واقعہ بھی وابستہ ہے جس کا یہاں بیان کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔رسول کریم صلی للی کم کا ایک کاتب وحی تھا جس کا نام عبد اللہ بن ابی سرح تھا۔آپؐ پر جب کوئی وحی نازل ہوتی تو اسے بلوا کر لکھوا دیتے۔ایک دن آپ یہی آیتیں اسے لکھوا رہے تھے۔جب آپ تمّ انْشَانَهُ خَلْقًا أَخَرَ پر پہنچے تو اس کے منہ سے بے اختیار نکل گیا کہ فَتَبَرَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَلِقِيْنَ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ یہی وحی ہے۔اس کو لکھ لو۔اس بد بخت کو یہ خیال نہ آیا کہ پچھلی آیتوں کے نتیجہ میں یہ آیت طبعی طور پر آپ ہی بن جاتی ہے۔اس نے سمجھا کہ جس طرح میرے منہ سے یہ آیت نکلی اور رسول اللہ صلی علی کرم نے اس کو وحی قرار دے دیا ہے اسی طرح آپ نعوذ باللہ خود سارا قرآن بنارہے ہیں۔چنانچہ وہ مرتد ہو گیا اور مکہ چلا گیا۔فتح مکہ کے موقعہ پر جن لوگوں کو قتل کرنے کا رسول کریم ملی ام نے حکم دیا تھا ان میں ایک عبد اللہ بن ابی سرح بھی تھا مگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے پناہ دے دی اور وہ آپ کے گھر میں تین دن چھپا رہا۔ایک دن جب کہ رسول کریم صلی ا یک مکہ کے لوگوں سے بیعت لے رہے تھے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ عبد اللہ بن ابی سرح کو بھی آپ کی خدمت میں لے گئے اور اس کی بیعت قبول کرنے کی درخواست کی۔رسول کریم صلی الی یم نے پہلے تو کچھ دیر تامل فرمایا مگر پھر آپ نے اس کی بیعت لے لی۔اور اس طرح دوبارہ اس نے اسلام قبول کر لیا۔سنن نسائی کی بیان کردہ روایت میں عکرمہ بن ابو جہل کے قبولِ اسلام کا واقعہ یوں بیان ہوا ہے جبکہ کتب سیرت میں اس کے اسلام قبول کرنے کی جو تفصیلات بیان ہوئی ہیں جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا ذرا مختلف ہیں کہ عکرمہ بن ابو جہل ان لوگوں میں سے تھا جن کے قتل کا نبی کریم صلی اللہ ہم نے فتح مکہ کے موقع پر حکم دیا ہوا تھا۔عکرمہ اور اس کا والد نبی کریم صلی الی یکم کو اذیت دیتا تھا اور وہ مسلمانوں پر 6356