اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 327
حاب بدر جلد 3 327 حضرت عثمان بن عفان فتح مکہ کے ضمن میں جو روایات ہیں جو 18 ہجری میں ہوئی اس میں ایک تفصیلی روایت سنن نسائی میں یوں مذکور ہے جس میں فتح مکہ کے موقع پر ان افراد کی تفصیل بیان ہوئی ہے جن کے قتل کے بارے میں نبی کریم صلی تعلیم کی جانب سے ارشاد جاری ہوا تھا۔حضرت مصعب بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے روز رسول اللہ صلی الیم نے چار مردوں اور دو عورتوں کے علاوہ باقی سب کفار کو امان دے دی تھی۔آپ نے فرمایا ان چار کو قتل کر دو خواہ تم انہیں کعبہ کے پردوں سے چمٹے ہوئے پاؤ۔وہ عکرمہ بن ابو جہل، عبد اللہ بن خَطل، مقیس بن صُبّابہ اور عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح تھے۔عبد اللہ بن خطل جب پکڑا گیا تو اس نے خانہ کعبہ کے پردوں کو پکڑا ہوا تھا۔حضرت سعید بن حریث اور حضرت عمار بن یاسر دونوں اس کی طرف لپکے اور سعید نے آگے بڑھ کر اسے قتل کر دیا۔مقیس کو لوگوں نے بازار میں پایا اور اسے قتل کر دیا۔عکرمہ سمندر کی طرف بھاگ گیا۔کشتی پر سوار لوگوں کو سمندری طوفان نے آلیا۔اس پر کشتی والوں نے کہا تم لوگ اخلاص اور سچائی سے کام لو کیونکہ تمہارے معبود یہاں کچھ فائدہ نہیں دیں گے۔اس پر عکرمہ نے کہا بخدا! مجھے سمندر میں اگر کوئی چیز بچائے گی تو اخلاص و سچائی ہے اور خشکی پر بھی اخلاص و سچائی ہی مجھے بچائے گی۔اے اللہ ! میں تجھ سے پختہ عہد کرتا ہوں کہ اگر تو مجھے اس طوفان سے محفوظ رکھے تو میں ضرور محمد علی ایم کے پاس جا کر ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھوں گا اور میں ضرور انہیں عفو کرنے والا اور کریم پاؤں گا۔پھر وہ واپس آیا اور اس نے اسلام قبول کر لیا۔اس بارہ میں زیادہ مشہور روایت تو یہی ہے کہ جہاز پر چڑھنے سے پہلے ہی اس کی بیوی نے آکر اسے قائل کر لیا تھا اور واپس لے گئی تھی۔یہ روایت بھی آگے آجائے گی۔بہر حال یہ سنن نسائی کی ایک روایت ہے۔جہاں تک عبد اللہ بن ابی سرح کا تعلق ہے تو وہ حضرت عثمان بن عفان کے ہاں چھپ گیا۔پھر جب رسول اللہ صلی ا ہم نے لوگوں کو بیعت کی دعوت دی تو حضرت عثمان اسے نبی صلی علیم کے سامنے لائے اور عرض کی یارسول اللہ ! عبد اللہ کی بیعت قبول فرمائیں۔آپ نے اپنا سر اٹھا کر اس کی طرف تین مرتبہ دیکھا اور تینوں مرتبہ انکار کیا۔بہر حال آخر آپ نے اس کی بیعت لے لی اور پھر آپ نے یہ بھی فرمایا کہ کوئی صاحب عقل شخص نہ تھا جو اس شخص کو قتل کر دیتا جس کی بیعت لینے سے میں نے تخلف کیا تھا۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمیں کیسے علم ہو تا کہ آپ کے دل میں کیا تھا۔آپ نے کیوں نہ آنکھ سے ہمیں اشارہ کیا؟ اس پر آپ صلی الم نے فرمایا کہ نبی کے لیے جائز نہیں کہ وہ آنکھوں کی خیانت کا ر تکب ہو۔یہ روایت سنن ابو داؤد میں بھی ہے۔البتہ سنن ابو داؤد میں ایک دوسری روایت بھی موجود ہے لیکن اس روایت کے آخری فقرات یعنی اس کو قتل کرنے وغیرہ کا ذکر نہیں ہے چنانچہ اس روایت میں بیان ہے کہ حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح رسول اللہ صلی علی کم کا کاتب تھا۔اسے شیطان نے بہکا دیا۔وہ کفار سے مل گیا۔فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی الم نے اس کے قتل کا حکم دیا۔حضرت عثمان بن عفان نے اس کے لیے پناہ طلب کی۔اس پر