اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 329
اصحاب بدر جلد 3 329 حضرت عثمان بن عفان بہت زیادہ سختی کرتا تھا۔جب اسے علم ہوا کہ رسول اللہ صلی علی یکم نے اس کا خون بہانے کا حکم دیا ہے تو وہ یمن کی طرف بھاگ گیا۔اس کی بیوی نے بعد اس کے کہ اس نے اسلام قبول کر لیا تھا اس کا پیچھا کیا اور اس نے عکرمہ کو سمندر کے ساحل پر پایا جب وہ کشتی پر سوار ہونے کا ارادہ کر رہا تھا۔ایک قول کے مطابق اس نے عکرمہ کو تب پایا جبکہ وہ کشتی میں سوار ہو چکا تھا۔اس نے عکرمہ کو یہ کہتے ہوئے روکا کہ اے میرے چچا کے بیٹے !میں تمہارے پاس اس انسان کی طرف سے آئی ہوں جو لو گوں میں سب سے زیادہ جوڑنے والے اور لوگوں میں سب سے زیادہ نیک اور لوگوں میں سب سے زیادہ خیر خواہ ہیں۔تو اپنی جان کو ہلاکت میں مت ڈال کیونکہ میں تمہارے لیے امان طلب کر چکی ہوں۔اس پر وہ اپنی بیوی کے ساتھ آیا اور اس نے اسلام قبول کر لیا اور اس کا اسلام بہت خوبصورت رہا۔روایت میں آتا ہے کہ جب عکرمہ رسول اللہ صلی ای کم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میری بیوی نے مجھے بتایا ہے کہ آپ نے مجھے امان دی ہے۔آپ نے فرمایا: تو نے سچ کہا۔یقینا تو امن میں ہے۔اس پر عکرمہ نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور آپ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس نے اپنا سر شرم سے نیچے جھکا لیا۔اس پر رسول اللہ صلی الی یکم نے اسے فرمایا: اے عکرمہ اتو مجھ سے جو بھی چیز مانگے گا اگر میں اس کی طاقت رکھتا ہوں گا تو ضرور تجھے دوں گا۔عکرمہ نے عرض کیا کہ میری ہر اس عداوت کے لیے بخشش کی دعا کر دیں جو میں نے آپ سے روار کھی۔اس پر آنحضرت علی علیم نے یہ دعا کی کہ اے اللہ ! عکرمہ کی ہر وہ عداوت اس کو بخش دے جو اس نے مجھ سے روار کھی یا ہر وہ بُری بات بخش دے جو اس نے کی۔پھر رسول اللہ صل اللیل کی خوشی سے سر شار اٹھے اور اپنی چادر اس پر ڈال دی اور فرمایا: خوش آمدید اس شخص کو جو ایمان لانے کی حالت میں اور ہجرت کرنے کی حالت میں ہمارے پاس آیا۔عکرمہ بعد میں بڑے جلیل القدر صحابہ میں شمار ہوتے تھے۔عکرمہ کے ایمان لانے سے وہ پیشگوئی بھی پوری ہوئی جو آنحضرت صلیالی یکم نے اپنے صحابہ سے بیان فرمائی تھی کہ آپ نے خواب میں دیکھا کہ آپ جنت میں ہیں۔آپ صلی میں کم نے وہاں انگور کا ایک خوشہ دیکھا جو آپ کو بہت اچھا لگا۔آپ صلی میں ہم نے پوچھا یہ کس کے لیے ہے تو کہا گیا کہ ابو جہل کے لیے ہے۔یہ بات آپ پر گراں گزری۔آپ کو اچھی نہیں لگی، پریشان ہوئے اور آپ نے فرمایا: جنت میں تو سوائے مومن جان کے اور کوئی داخل نہیں ہو تا تو یہ ابو جہل کے لیے کس طرح؟ پھر جب عکرمہ بن ابو جہل نے اسلام قبول کیا تو آپ اس سے خوش ہوئے اور اس خوشہ کی تعبیر یہ بیان فرمائی کہ اس سے مراد عکرمہ تھا۔636 غزوہ تبوک جو رجب 19 ہجری میں ہوئی اس غزوہ تبوک کو جیشُ الْعُسْرَۃ یعنی تنگی والا لشکر بھی کہتے ہیں۔اس غزوہ کی تیاری کے لیے حضرت عثمان کو جس مالی خدمت کی توفیق ملی اس کا تذکرہ یوں ملتا ہے