اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 288 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 288

اصحاب بدر جلد 3 288 حضرت عمر بن خطاب جائے۔اس طرح نہ وہ انہیں مرنے دیتا نہ جینے۔کسی نے اسے کہا کہ تجھے یہ سر درد اس لیے ہے کہ تو نے اس مسلمان کو قید رکھا ہوا ہے اور اب اس کا علاج یہی ہے کہ تم عمرؓ سے اپنے لیے دعا کر اؤ اور ان سے کوئی تبرک منگواؤ۔جب حضرت عمر نے اسے ٹوپی بھیجی اور اس کے درد میں افاقہ ہو گیا تو وہ اس سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے اس صحابی کو بھی چھوڑ دیا۔اب دیکھو! کہاں قیصر ایک صحابی کو تکلیف دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی سزا کے طور پر اس کے سر میں درد پیدا کر دیتا ہے۔کوئی اور شخص اسے مشورہ دیتا ہے کہ عمر سے تبرک منگو اؤ اور ان سے دعا کرواؤ۔وہ تبرک بھیجتے ہیں اور قیصر کا درد جاتا رہتا ہے۔تو اس طرح اللہ تعالیٰ اس 545 صحابی کی نجات کے بھی سامان کر دیتا ہے اور محمد رسول اللہ صلی الی یوم کی صداقت اس پر ظاہر کر دیتا ہے۔تفسیر رازی میں ہے کہ قیصر نے حضرت عمر کو لکھا کہ مجھے سر درد ہے جو ٹھیک نہیں ہو رہی۔آپ میرے لیے کوئی دوا بھجوائیں تو حضرت عمرؓ نے اس کے لیے ٹوپی بھجوائی۔جب وہ اسے اپنے سر پر رکھتا تو اس کے سر میں درد رک جاتی اور جو نہی وہ اسے سر سے اتار تا اسے دوبارہ سر درد ہو جاتی۔پس اس بات ، وہ متعجب ہوا اس نے ٹوپی میں تلاش کیا اور اس میں ایک کاغذ پایا جس میں بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ لکھا ہوا تھا۔یہ تفسیر رازی کا ایک ذکر ہے۔146 حضرت عمرؓ کی دعائیں ہیں بعض۔عمر و بن میمون بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اللهُمَّ تَوَفَّنِي مَعَ الْأَبْرَارِ وَلَا تُخَلَّفْنِي فِي الْأَشْرَارِ وَقِنِي عَذَابَ النَّارِ وَأَلْحِقْنِي بِالْأَخْيَارِ اے اللہ ! مجھے نیک لوگوں کے ساتھ وفات دے اور مجھے برے لوگوں میں پیچھے نہ چھوڑ اور مجھے آگ کے عذاب سے بچا اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے۔47 حیی بن سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب جب منی سے لوٹے تو اپنے اونٹ کو ابطح میں بٹھایا اور وادی بطحا کے پتھروں سے ایک ڈھیر بنایا اور اس پر اپنی چادر کا ایک کنارہ بچھا کر لیٹ گئے اور اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر دعا کرنے لگے: اللَّهُمَّ كَبُرَتْ سِنِّي وَضَعُفَتْ قُوَتِي وَانْتَشَرَتْ رَعِيَّتِى فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مُضَيَّعٍ وَلَا مُفَرِّط اے اللہ ! میری عمر زیادہ ہو گئی ہے اور میری قوت کم ہو گئی ہے اور میری رعیت پھیل گئی ہے۔تو مجھے بغیر ضائع کیے اور کم کیے وفات دے دے۔پس ابھی ذوالحجہ کا مہینہ ختم نہیں ہوا تھا کہ آپ پر حملہ ہوا اور آپ کی شہادت ہو گئی۔548 حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ قحط کے دنوں میں حضرت عمر نے ایک نیا کام کیا جسے وہ نہ کیا کرتے تھے۔وہ یہ تھا کہ لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھا کر اپنے گھر میں داخل ہو جاتے اور آخر شب تک مسلسل نماز پڑھتے رہتے۔پھر آپ باہر نکلتے اور مدینہ کے اطراف میں چکر لگاتے رہتے۔ایک رات سحری کے وقت میں نے ان کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اللهُم لَا تَجْعَلْ هَلَاكَ أُمَّةٍ مُحَمَّدٍ عَلَى يَدَيَّ اے الله ! میرے ہاتھوں محمد صلی ال نیلم کی امت کو ہلاکت میں نہ ڈالنا۔549