اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 208
اصحاب بدر جلد 3 208 حضرت عمر بن خطاب حاصل ہوں گے جو مسلمانوں کو حاصل ہیں ورنہ جزیہ دینا ہو گا جو تمام ذمیوں سے لیا جاتا ہے۔حضرت عمر کا یہ فرمان جب قیدیوں کے سامنے پڑھا گیا تو بہت سے قیدیوں نے اسلام قبول کیا اور بہت سے اپنے مذہب پر قائم رہے۔جب کوئی شخص اسلام کا اظہار کرتا تو مسلمان اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرتے تھے اور جب کوئی شخص عیسائیت کا اقرار کرتا تھا تو تمام عیسائیوں میں مبارکباد کا شور اٹھتا تھا اور غمگین ہوتے تھے۔359 مسلمان اسکندریہ کی لائبریری جلائے جانے کا واقعہ بھی بعض مستشرقین بڑے زور شور سے بیان کرتے ہیں۔اس کی حقیقت کیا ہے؟ اسکندریہ کی اس فتح کے ضمن میں مخالفین بالخصوص عیسائی مصنفین کی طرف سے ایک اعتراض کیا جاتا ہے کہ حضرت عمرؓ نے اسکندریہ میں موجود ایک بہت بڑے کتب خانے کو جلانے کا حکم دیا تھا اور اس اعتراض کے ساتھ گویا یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ مسلمان نعوذ باللہ کس قدر علم و عقل کے مخالف تھے اور اسکندریہ میں موجود اتنے بڑے کتب خانے کو جلا دیا کہ چھ ماہ تک آگ جلتی رہی حالانکہ عقل و نقل دونوں اعتبار سے یہ اعتراض سراسر بناوٹی اور جعلی معلوم ہوتا ہے کیونکہ جس قوم کو اس کے رب اور راہنمار سول اللہ صلی الم نے یہ فرمایا ہو کہ طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلى كُلِّ مُسْلِمٍ کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔10 اور جس نے یہ حکم دیا ہو کہ أَطْلُبُوا الْعِلْمَ وَلَوْ بِالصّينِ کہ علم حاصل کرو خواہ چین جانا پڑے۔361 360 اور جن کے لیے قرآن کریم میں علم و عقل اور تدبر و تفکر کے لیے در جنوں احکام و آیات موجود ہوں ایسے لوگوں پر کتب خانے کو جلانے کا الزام لگانا عقل اور درایت کے اصولوں کے خلاف ہے۔اس کے علاوہ بہت سے محققین جن میں خود عیسائی اور یورپین محقق شامل ہیں انہوں نے اس بات کی تردید کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ اسکندریہ کے کتب خانے کو جلائے جانے کا واقعہ سر اسر بناوٹی اور جعلی قصہ ہے۔چنانچہ مصر کے ایک عالم محمد رضا اپنی تصنیف 'سیرت عمر فاروق ، میں اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اسکندریہ میں آگ لگنے کا جو اعتراض کیا جاتا ہے اس کا ذکر ابو الفرج مَلَطِی نے کیا ہے۔اس نے یہ واقعہ تاریخ کی ایک کتاب مختصر الدول میں کیا ہے۔یہ مورخ 1226ء میں پیدا ہوا اور 1286ء میں فوت ہوا۔اس نے لکھا ہے کہ فتح کے وقت يُوحَنَّا التَّحْوِی نامی ایک شخص جو قبطی پادری تھا اور مسلمانوں میں بیچی کے نام سے مشہور ہوا، اعتقاد کے لحاظ سے عیسائیوں کے فرقہ یعقوبیہ سے اس کا تعلق تھا اور بعد میں عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث سے رجوع کر لیا۔اس نے عمرو بن عاص سے خزائن ملوکیت میں سے حکمت کی کتب ما نگیں تو حضرت عمرو بن عاص نے جواب دیا کہ حضرت عمرؓ سے اجازت کے بعد ہی کچھ بتانے کے قابل ہوں گا۔ویسے تو یہ بالکل جھوٹی کہانی ہے لیکن پھر بھی اعتراض کو رڈ کرنے کے لیے بیان کر دیتا ہوں۔حضرت عمرؓ نے لکھا کہ آپ نے جن کتابوں کا ذکر کیا ہے اگر تو ان کا مواد اللہ تعالیٰ کی کتاب