اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 207 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 207

اصحاب بدر جلد 3 207 حضرت عمر بن خطاب راستہ ہموار کرنے لگے اور پل مرمت کرنے لگے۔اسکندریہ کے محاصرہ میں بھی قبطی لوگ مسلمانوں کو رسد مہیا کرتے رہے۔اسکندریہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جس وقت مسلمانوں نے اسکندریہ کو فتح کیا اس وقت اس شہر کو دارالحکومت کی حیثیت حاصل تھی۔قسطنطنیہ کے بعد باز نطینی رومی بادشاہت کا دوسرا بڑا شہر مانا جاتا تھا۔مزید بر آں دنیا کا سب سے پہلا تجارتی شہر تھا۔بازنطینی یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ اگر اس شہر پر مسلمانوں کا غلبہ ہو گیا تو اس کے بہت بھیانک نتائج سامنے آئیں گے۔اسی پریشانی کی حالت میں ہر قل نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر عرب اسکندریہ پر غالب آگئے تو رومی ہلاک ہو جائیں گے۔اسکندریہ میں ہر قل نے مسلمانوں سے لڑنے کے لیے بنفس نفیس تیاری کی تھی لیکن تیاری کے دوران مر گیا اور اس کا بیٹا قسطنطین بادشاہ بنا۔اسکندریہ اپنی فصیلوں کی استواری، ضخامت، محل وقوع اور محافظوں کی کثرت کی وجہ سے دفاعی اعتبار سے اپنا ایک منفرد مقام رکھتا تھا۔اسکندریہ کا محاصرہ نو ماہ تک جاری رہا۔حضرت عمر کو تشویش ہوئی اور حضرت عمرؓ نے خط لکھا کہ شاید تم لوگ وہاں رہ کر عیش پرست ہو گئے ہو اور نہ فتح میں اس قدر دیر نہ ہوتی۔اس پیغام کے ساتھ مسلمانوں میں جہاد کی تقریر کرو اور حملہ کرو۔حضرت عمر کا یہ خط سنانے کے بعد حضرت عمر و بن عاص نے حضرت عبادہ بن صامت کو بلایا اور علم ان کے سپر د کیا۔مسلمانوں نے نہایت شدید حملہ کیا اور شہر فتح کر لیا۔اسی وقت حضرت عمرو نے مدینہ قاصد روانہ کیا اور اس کو کہا کہ جس قدر تیز جاسکو جاؤ اور امیر المومنین کو خوشخبری سناؤ۔قاصد اونٹنی پر سوار ہوا اور منزلیں طے کرتے ہوئے مدینہ پہنچا۔چونکہ دو پہر کا وقت تھا تو اس خیال سے کہ یہ آرام کا وقت ہے ، بارگاہ خلافت میں جانے سے پہلے سیدھا مسجد نبوی کا رخ کیا۔اتفاق سے حضرت عمر کی لونڈی ادھر آنکلی اور پوچھا کہ کون ہو اور کہاں سے آئے ہو ؟ قاصد نے کہا اسکندریہ سے آیا ہوں۔اس لونڈی نے اسی وقت جا کر خبر دی اور ساتھ ہی واپس آئی اور کہا کہ چلو تم کو امیر المومنین بلاتے ہیں۔حضرت عمر بغیر انتظار کے خود چلنے کے لیے تیار ہوئے اور چادر سنبھال رہے تھے کہ قاصد پہنچ گیا۔فتح کا حال سن کر زمین پر گرے اور سجدہ شکر ادا کیا۔آپ اٹھ کر مسجد میں آئے اور منادی کرادی کہ الصلوۃ جامعہ۔یہ سنتے ہی سارا مدینہ امڈ آیا۔قاصد نے سب کے سامنے فتح کے حالات بیان کیے۔بعد ازاں قاصد حضرت عمرؓ کے ساتھ ان کے گھر گیا۔اس کے سامنے کھانا پیش کیا گیا۔پھر حضرت عمرؓ نے قاصد سے پوچھا کہ سیدھے میرے پاس کیوں نہیں آئے ؟ اس نے کہا کہ میں نے سوچا کہ آپ آرام کر رہے ہوں گے۔فرمانے لگے تم نے میرے متعلق یہ کیوں گمان کیا؟ میں دن کو سوؤں گا تو خلافت کا بار کون اٹھائے گا؟ اسکندریہ کی فتح کے ساتھ سارا مصر فتح ہو گیا۔ان معرکوں میں کثرت سے قیدی بنائے گئے۔حضرت عمرؓ نے تمام قیدیوں کے متعلق حضرت عمرو کو بذریعہ خط ارشاد فرمایا کہ سب کو بلا کر کہہ دو کہ ان کو اختیار ہے کہ مسلمان ہو جائیں یا اپنے مذہب پر قائم رہیں۔اسلام قبول کریں گے تو ان کو وہ تمام حقوق