اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 193 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 193

صحاب بدر جلد 3 193 حضرت عمر بن خطاب بیت المقدس قریب آیا تو حضرت ابو عبیدہ اور سردارانِ فوج استقبال کے لیے آئے۔حضرت عمر نکا لباس اور سامان بالکل سادہ تھا۔مسلمانوں نے یہ سوچ کر کہ عیسائی کیا کہیں گے آپ کو قیمتی پوشاک دی لیکن آپ نے فرمایا خدا نے ہم کو جو عزت دی ہے وہ اسلام کی عزت ہے اور ہمارے لیے یہی کافی ہے۔عیسائی پادریوں نے خود شہر کی چابیاں حضرت عمرؓ کے سپرد کیں۔سب سے پہلے حضرت عمر مسجد اقصیٰ گئے۔پھر عیسائیوں کے گرجا میں آئے اور اس کو دیکھتے رہے۔حضرت عمرؓ نے عیسائیوں کے گرجا کی سیر کی۔نماز کا وقت ہوا تو عیسائیوں نے گرجے میں نماز پڑھنے کی اجازت دی لیکن حضرت عمرؓ نے اس خیال سے کہ آئندہ نسلیں اس کو حجت قرار دے کر مسیحی معبدوں میں دست اندازی نہ کریں باہر نکل کر نماز پڑھی۔ابو عبیدہ نے حضرت عمرؓ کی ضیافت نہیں کی۔۔۔۔۔ایلیا میں قیام کے دوران مسلمان لشکر کے امراء نے حضرت عمر کی دعوتیں کرنا شروع کر دیں۔وہ کھانا تیار کرتے اور حضرت عمرؓ سے درخواست کرتے کہ ان کے خیمہ میں تشریف لائیں تو حضرت عمران کی عزت افزائی کرتے ہوئے ان کی دعوت کو قبول فرماتے تا ہم حضرت ابو عبیدہ نے حضرت عمررؓ کی ضیافت نہیں کی تو حضرت عمرؓ نے حضرت ابو عبیدہ سے فرمایا کہ تمہارے سوالشکر کے امراء میں سے کوئی ایسا امیر نہیں جس نے میری دعوت نہ کی ہو۔اس پر حضرت ابو عبیدہ نے عرض کیا: اے امیر المومنین ! میں ڈرتا ہوں کہ اگر میں نے آپ کی دعوت کی تو آپ اپنی آنکھوں پر قابو نہیں رکھ سکیں گے یعنی جذباتی ہو جائیں گے۔حضرت عمر اس کے بعد ان کے خیمہ میں گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ اس میں کچھ بھی نہیں ہے سوائے حضرت ابو عبیدہ کے گھوڑے کے نمدے کے اور وہی ان کا بستر تھا اور ان کی زمین تھی اور وہی ان کا تکیہ تھا۔زین کو تکیہ بنالیتے تھے اور جو نمیدہ تھا زین کے نیچے رکھنے والا اس کو وہ بستر بنا لیتے تھے اور ان کے خیمے کے ایک کونے میں خشک روٹی تھی۔حضرت ابو عبیدہ اسے لائے اور اسے زمین پر حضرت عمررؓ کے سامنے رکھ دیا۔پھر وہ نمک اور مٹی کا پیالہ لائے جس میں پانی تھا۔جب حضرت عمرؓ نے یہ منظر دیکھا تو آپ رو پڑے۔پھر حضرت عمر نے ابو عبیدہ کو اپنے ساتھ چمٹا لیا اور فرمایا تم میرے بھائی ہو۔اور میرے ساتھیوں میں سے کوئی ایک بھی نہیں مگر اس نے دنیا سے کچھ حاصل کیا اور دنیا نے بھی اس سے کچھ حاصل کیا ہو سوائے تمہارے۔اس پر ابو عبیدہ نے عرض کیا کہ کیا میں نے آپ کی خدمت میں پہلے عرض نہیں کر دیا تھا کہ آپ میرے ہاں اپنی آنکھوں پر قابو نہیں رکھ سکیں گے۔اس کے بعد پھر حضرت عمرؓ باہر نکل کے لوگوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی جس کا وہ حق دار ہے اور نبی کریم صلی املی کم پر درود بھیجنے کے بعد فرمایا۔اے اہل اسلام ! یقینا اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا ہے اور اس نے دشمنوں کے خلاف تمہاری مدد کی ہے اور تمہیں ان ممالک کا وارث