اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 194 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 194

محاب بدر جلد 3 194 حضرت عمر بن خطاب بنا دیا ہے اور تمہیں زمین میں تمکنت عطا فرمائی ہے۔پس تمہیں اپنے رب کی نعمتوں پر شکر بجالانا چاہیے۔تم لوگ نافرمانی والے کاموں سے دور رہو کیونکہ نافرمانی والے کام نعمتوں کی ناشکری ہے اور بہت کم ایسا ہوا ہے کہ اللہ کسی قوم پر انعام کرے اور وہ ناشکری کریں۔پھر وہ جلد تو بہ نہ کریں مگر ضرور ان کی عزت سلب کر لی جاتی ہے۔یعنی اگر ناشکری کرنے کے بعد تو بہ نہیں کرتے تو پھر ان کی عزتیں سلب ہو جاتی ہیں، ختم ہو جاتی ہیں۔ان کے انعامات واپس ہو جاتے ہیں اور ان پر ان کے دشمنوں کو مسلط کر دیا جاتا ہے۔کیونکہ ایلیا میں اکثر افسرانِ فوج اور عمال جمع ہو گئے تھے اس لیے حضرت عمرؓ نے کئی دن تک قیام کیا اور ضروری احکام جاری کیے۔ایک دن حضرت بلال نے آکر شکایت کی کہ اے امیر المومنین ! ہمارے افسر پرندے کا گوشت اور میدے کی روٹیاں کھاتے ہیں لیکن عام مسلمانوں کو معمولی کھانا بھی نصیب نہیں ہو تا۔حضرت عمرؓ نے افسران سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے عرض کیا کہ تمام چیزیں یہاں بہت سستی ہیں۔جتنی قیمت پر حجاز میں روٹی اور کھجور ملتی ہے یہاں اسی قیمت پر پرندے کا گوشت اور میدہ ملتا ہے۔حضرت عمر نے افسران کو بھی مجبور نہیں کیا کہ تم نے یہ نہیں کھانا مگر اس بات کا حکم دے دیا کہ مالِ غنیمت اور تنخواہ کے علاوہ ہر سپاہی کا کھانا بھی مقرر کر دیا جائے۔تنخواہ کے علاوہ ان کو کھانا بھی دیا جائے جو سپاہی ہیں۔اس کی مزید تفصیل ایک جگہ یوں بیان ہوئی ہے کہ حضرت یزید بن ابو سفیان کہنے لگے کہ ہمارے شہروں کا نرخ سستا ہے۔اس قیمت میں جس میں ہم لوگ ایک مدت تک گزارہ کر سکتے ہیں یہ چیزیں جسے حضرت بلال بیان کر رہے ہیں مل جاتی ہیں۔حضرت عمر فاروق نے فرمایا اگر یہ بات ہے تو خوب مزے سے پیٹ بھر کر کھاؤ۔میں اس وقت تک یہاں سے واپس نہ جاؤں گا یہاں تک کہ تم میرے سامنے چیزوں کی اور قیمتوں کی فہرست پیش نہ کر دو۔میں شہروں اور دیہاتوں میں رہنے والے کمزور مسلمانوں کے لیے بجٹ لکھ کر دیتا ہوں۔پھر جس مسلمان کو جتنی ضرورت ہو گی اس بجٹ میں سے ہر گھر کے لیے گندم اور جو اور شہد اور زیتون وغیر ہ ادا کر دیا کرو۔پھر آپ نے ان کمزور اور کم سرمایہ دار مسلمانوں سے مخاطب ہو کر فرمایا: میں نے تمہارے لیے جو فہرست تیار کی ہے تمہارے سردار تمہیں یہ سب کچھ دیا کریں گے اور یہ سب کچھ اس کے علاوہ ہو گا جو میں بیت المال سے تمہارے لیے بھیجا کروں گا۔اگر کوئی سردار تمہیں یہ چیزیں نہ دے تو مجھے اطلاع دینا۔پھر میں فوراً ہی اسے معزول کر دوں گا۔حضرت بلال کا ایک بار پھر اذان دینا ایلیا میں قیام کے دوران ایک دفعہ نماز کا وقت ہوا تو لوگوں نے حضرت عمرؓ سے اصرار کیا کہ وہ حضرت بلال کو اذان دینے کا حکم دیں۔حضرت بلال نے کہا میں عزم کر چکا تھا کہ رسول اللہ صلی لنی کیم کے بعد کسی کے لیے اذان نہ دوں گا لیکن آپ کا ارشاد بجالاؤں گا۔چنانچہ حضرت عمرؓ کے حکم پر حضرت بلال