اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 188
حاب بدر جلد 3 188 حضرت عمر بن خطاب ہے کہ حضرت خالد بن ولید یا حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے تنہایا مشترکہ طور پر بیت المقدس کا محاصرہ کیا جیسا کہ طبری، ابن اثیر اور ابن کثیر وغیرہ نقل کرتے ہیں۔طبری کی روایت ہے کہ کہا جاتا ہے کہ حضرت عمرؓ کے شام آنے کی وجہ یہ تھی کہ حضرت ابو عبیدہ نے بیت المقدس کا محاصرہ کیا تو اہل شہر نے، شام کے دوسرے علاقوں کے باشندوں سے جو صلح ہو چکی تھی انہی شرطوں پر انہیں صلح کی درخواست کی مگر اس میں اتنی شرط اور بڑھائی کہ حضرت عمر بن خطاب خود تشریف لا کر صلح کی تکمیل کریں۔حضرت ابو عبید گانے اس کی اطلاع بار گاہِ خلافت میں ارسال کی اور حضرت عمر مدینہ سے روانہ ہو گئے۔یہ لکھتے ہیں کہ اس روایت کو ہم خلافِ حقیقت سمجھتے ہیں کہ بیت المقدس کے محاصرے کے وقت حضرت ابو عبیدہ اور حضرت خالد حمص، حلب، انطاکیہ اور اس کے آس پاس کے شہروں میں فتوحات میں مصروف تھے اور ہر قل ان کے بالمقابل رھاء مقام میں بیٹھا لشکر جمع کر رہا تھا کہ انہیں الٹے پاؤں واپس ہونے پر مجبور کر دے۔یہ تمام واقعات بھی بیت المقدس کے محاصرے کی طرح سنہ 15 ہجری مطابق سنہ 636ء کے ہیں اور یہ لکھتے ہیں کہ ان کے نزدیک یہ صحیح ہے کہ بیت المقدس کا محاصرہ اسی سنہ میں کئی مہینے تک جاری رہا جس سنہ میں یہ دونوں سپہ سالار شام کے انتہا میں بڑھتے چلے جارہے تھے یہاں تک کہ انہوں نے ہر قل کو اپنے دارالسلطنت میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا تھا۔ایسی صورت میں کہ وہ دونوں ادھر مصروف تھے، یہ کہنا کہ ان میں سے کسی ایک یا دونوں نے بیت المقدس کا محاصرہ کیا ایک ایسی بات ہے جو کسی طرح نہیں بنتی۔اس لیے ناقابل قبول قرار دینا پڑتا ہے۔اب صرف یہ ایک روایت اور باقی رہ جاتی ہے اور طبری نے بھی پہلے اس کے بارے میں لکھا ہے کہ بیت المقدس کا محاصرہ حضرت عمر و بن عاص نے کیا تھا جو طویل مدت تک جاری رہا اور بیت المقدس والوں نے بڑے جوش اور بڑی شدت سے مسلمانوں کا مقابلہ کیا اور یہی روایت ہماری رائے میں صحیح ہے۔اس لیے کہ یہ اس مقاومت سے اتفاق رکھتی ہے یعنی جو مقابلہ ہو رہا تھا اس سے ظاہر ہوتا ہے جو کہ بیت المقدس نے مختلف زمانوں میں ہر حملہ آور کے مقابلے میں ظاہر کی۔322 محمد حسین ہیکل مزید لکھتا ہے کہ ” تعجب ہے کہ حضرت عمر محض صلح کی تکمیل اور عہد نامے کی تسویط “ یعنی تنفیذ ” کے لئے لشکر کے ساتھ تشریف لے جاتے ہیں اور اسی طرح تعجب ہے کہ اہل بیت المقدس معاہدہ صلح کی تکمیل کے لئے حضرت عمر کے مدینہ سے تشریف لانے کا مطالبہ کرتے ہیں حالا نکہ جانتے ہیں کہ اگر مدینہ سے کوئی قافلہ لگا تار سفر کر کے ان کی طرف آئے تو پورے تین ہفتہ لگیں گے۔اس لئے “ یہ کہتا ہے کہ ”میرے نزدیک صحیح یہ ہے کہ محاصرے کی طوالت اور حضرت عمر و بن عاص کے ان خطوط سے جن میں دشمن کی طاقت کا ذکر کر کے مدد طلب کی گئی تھی حضرت عمر کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا تھا۔چنانچہ جب ان سے نئی کمک طلب کی گئی تو اس کے ساتھ حضرت عمر بھی روانہ ہو گئے اور جابیہ میں قیام فرمایا جو صحرائے شام اور سرزمین اردن کے درمیان واقع ہے۔اس دوران میں