اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 187
اصحاب بدر جلد 3 187 حضرت عمر بن خطاب کا لشکر بھی ان سے جاملا۔عیسائیوں نے قلعہ بندی سے تنگ آکر صلح کی پیشکش کی لیکن شرط یہ رکھی کہ خود حضرت عمر آکر صلح کا معاہدہ کریں۔حضرت ابو عبیدہ نے حضرت عمر ھو اس کی اطلاع دی۔حضرت عمرؓ نے صحابہ سے مشورہ کیا تو حضرت علیؓ نے جانے کا مشورہ دیا۔حضرت عمر نے ان کی رائے کو پسند کیا۔پھر حضرت عمرؓ نے حضرت علی کو مدینہ کا امیر مقرر فرمایا۔ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے حضرت عثمان کو امیر مقرر فرمایا تھا۔اس کے بعد آپ بیت المقدس کے لیے روانہ ہو گئے۔حضرت عمر کا یہ سفر کوئی معمولی سفر نہ تھا۔اس کا مقصد دشمنوں کے دلوں پر اسلامی رعب و دبدبہ بٹھانا تھا لیکن جب آپ روانہ ہوئے تو روایات میں ہے کہ دنیاوی بادشاہوں کی طرح نہ تو ان کے ساتھ کوئی نقارہ تھا نہ کوئی لاؤ لشکر تھا یہاں تک کہ ایک معمولی ساخیمہ بھی ساتھ نہ تھا۔حضرت عمرؓ ایک گھوڑے پر سوار تھے اور چند ساتھی مہاجرین اور انصار میں سے تھے۔ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمرؓ کے ساتھ صرف ان کا ایک غلام، کھانے کے لیے کچھ سنتو اور ایک لکڑی کا پیالہ تھا اور اونٹ پر سوار تھے لیکن اس کے باوجود جہاں بھی یہ خبر پہنچتی کہ حضرت عمرؓ نے مدینہ سے بیت المقدس کا ارادہ کیا ہے تو زمین کانپ اٹھتی تھی۔319 اس بات کی وضاحت میں یہ ایک سفر کا مختصر سا حال بیان کیا گیا ہے لیکن اس میں تفصیل نہیں ہے۔بہر حال ایلیا ایک شہر تھا جس میں بیت المقدس موجود ہے ، اس کا محاصرہ کس نے کیا تھا اور کس نے حضرت عمر کی خدمت میں بیت المقدس تشریف لانے کی درخواست کی تھی ؟ اس بارے میں طبری میں لکھا ہے کہ حضرت عمرو بن عاص نے حضرت عمر بن خطاب کو خط بھیجا جس میں ان سے امداد بھجوانے کی درخواست کی۔اس میں حضرت عمر و نے یہ تجویز کیا تھا کہ مجھے انتہائی گھمسان کی جنگیں در پیش ہیں اور کئی شہر ہیں جن سے جنگیں ابھی باقی ہیں۔آپ کے ارشاد کا منتظر ہوں۔حضرت عمرؓ کے پاس حضرت عمر و بن عاص کا یہ خط پہنچا تو آپ سمجھ گئے کہ حضرت عمر ڈ نے یہ بات پوری معلومات کے بعد ہی لکھی ہو گی۔پھر حضرت عمرؓ نے لوگوں میں اپنے سفر کی منادی کرادی اور سفر کے لیے کوچ کیا۔20 طبری میں حضرت عمر کی شام میں تشریف آوری کے متعلق ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ اس کا سبب دراصل یہ پیش آیا تھا کہ حضرت ابو عبیدہ بیت المقدس پہنچے تو وہاں کے لوگوں نے ان سے شام کے دیگر شہروں کے معاہدات صلح کے مطابق صلح کرنی چاہی اور ان کی خواہش یہ بھی تھی کہ اس معاہدہ صلح میں مسلمانوں کی طرف سے سربراہ کی حیثیت سے حضرت عمرؓ بھی شرکت کریں۔حضرت ابو عبیدہ نے 320 حضرت عمرؓ کی خدمت میں یہ لکھا تو حضرت عمر مدینہ سے روانہ ہو گئے۔321 لیکن حضرت ابو عبیدہ کی روایت پر بعض مؤرخین کو تسلی نہیں ہے۔محمد حسین ہیکل اس حوالے سے تحریر کرتے ہیں کہ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اُس روایت کو حقیقت سے بعید سمجھیں جس کا بیان یہ