اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 186
محاب بدر جلد 3 186 حضرت عمر بن خطاب رض دیں۔حضرت عکرمہ آگے نکلے اور انہوں نے حضرت ابو عبیدہ سے درخواست کی کہ مجھے اپنی مرضی کے مطابق کچھ آدمی چن لینے دیں میں ان آدمیوں کو ساتھ لے کر دشمن کے قلب لشکر پر حملہ کروں گا اور کوشش کروں گا کہ ان کے جرنیل کو مار دوں۔اس وقت رومی لشکر کا جرنیل خوب زور سے لڑ رہا تھا اور بادشاہ نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ مسلمانوں کے مقابلہ میں فتح حاصل کر لے تو وہ اپنی لڑکی کی شادی اس سے کر دے گا اور اپنی آدھی مملکت اس کے سپر د کر دے گا۔اس لالچ کی وجہ سے وہ بڑے جوش میں تھا اور اپنی ذاتی اور شاہی فوج لے کر میدان میں اتر ہو اتھا اور اس نے سپاہیوں سے بڑی رقوم کا وعدہ کیا ہو اتھا۔چنانچہ رومی سپاہی بھی جان توڑ کر لڑ رہے تھے۔جب رومی لشکر نے مسلمانوں پر حملہ کیا تو وہ جرنیل لشکر کے قلب میں کھڑا تھا۔حضرت عکرمہ نے قریبا چار سو آدمیوں کو لے کر لشکر کے قلب پر حملہ کیا اور ان کے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے اس جرنیل پر حملہ کر کے اسے نیچے گرا دیا۔مقابلہ میں لاکھوں کا لشکر تھا اور یہ صرف چار سو مسلمان تھے۔اس لیے مقابلہ آسان نہ تھا۔اس جرنیل کو تو انہوں نے مار دیا اور اس کے مرجانے کی وجہ سے لشکر بھی تتر بتر ہو گیا مگر دشمن ان آدمیوں پر ٹوٹ پڑا اور سوائے چند ایک کے سارے کے سارے شہید ہو گئے۔ان آدمیوں میں سے بارہ شدید زخمی تھے۔جب مسلمان لشکر کو فتح ہوئی تو ان لوگوں کی تلاش شروع ہوئی۔ان بارہ زخمیوں میں حضرت عکرمہ بھی شامل تھے۔ایک مسلمان سپاہی آپ کے پاس آیا۔آپ کی حالت خراب تھی۔اس نے کہا عکرمہ میرے پاس پانی کی چھا گل ہے تم کچھ پانی پی لو۔آپ نے منہ پھیر کر دیکھا تو پاس ہی حضرت عباس کے بیٹے فضل پڑے ہوئے تھے۔وہ بھی بہت زخمی تھے۔عکرمہ کہنے لگے میری غیرت یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ جن لوگوں نے رسول کریم صلی اللی علم کی اس وقت مدد کی جب میں آپ کا شدید مخالف تھا وہ اور ان کی اولا د تو پیاس کی وجہ سے مر جائے اور میں پانی پی کر زندہ رہوں۔پہلے انہیں پانی پلاؤ۔اگر کچھ بچ جائے تو پھر میرے پاس لے آنا۔چنانچہ وہ مسلمان فضل کے پاس گیا۔انہوں نے اگلے زخمی کی طرف اشارہ کیا اور کہا پہلے انہیں پلاؤ وہ مجھ سے زیادہ مستحق ہے۔وہ اس زخمی کے پاس گیا تو اس نے اگلے زخمی کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ وہ مجھ سے زیادہ مستحق ہے، پہلے اسے پلاؤ۔اس طرح وہ جس سپاہی کے پاس جاتا وہ اسے دوسرے کی طرف بھیج دیتا اور کوئی پانی نہ پیتا۔جب وہ آخری زخمی کے پاس پہنچا تو وہ فوت ہو چکا تھا۔جب مکرمہ کی طرف لوٹا تو وہ بھی دم توڑ چکے تھے۔اس طرح باقی زخمیوں کا حال ہوا۔جس کے پاس بھی وہ گیا وہ فوت ہو چکا تھا۔17 3 تو یہ تھا اس جنگ کا انجام۔اللہ تعالیٰ نے اس طرح پھر فتح دی۔18 بیت المقدس کی فتح ( پندرہ ہجری) حضرت عمر و بن عاص کی قیادت میں اسلامی لشکر نے بیت المقدس کا محاصرہ کر لیا تو حضرت ابو عبیدہ