اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 185 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 185

صحاب بدر جلد 3 185 حضرت عمر بن خطاب یہ یاد رکھو کہ ان علاقوں کے لوگوں سے ٹیکس اس شرط پر وصول کیا گیا تھا کہ اسلامی لشکر ان کی حفاظت کرے گا اور جب اسلامی لشکر پیچھے ہٹے گا تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ ان علاقوں کی حفاظت نہیں کر سکے گا۔اس لئے ضروری ہے کہ جس سے جو کچھ وصول کیا گیا ہے وہ اسے واپس کر دیا جائے۔جب حضرت عمر کا یہ حکم پہنچا تو اسلامی سپہ سالار نے ان علاقوں کے زمینداروں اور تاجروں اور دوسرے لوگوں کو بلا بلا کر ان سے وصول شدہ رقوم واپس کر دیں اور ان سے کہا کہ آپ لوگوں سے یہ رقوم اس شرط پر وصول کی گئی تھیں کہ اسلامی لشکر آپ لوگوں کی حفاظت کرے گا مگر اب جبکہ ہم دشمن کے مقابلہ میں اپنے آپ کو کمزور پاتے ہیں اور کچھ دیر کے لیے عارضی طور پر پیچھے ہٹ رہے ہیں اور اس وجہ سے آپ لوگوں کی حفاظت نہیں کر سکتے۔ان رقوم کو اپنے پاس رکھنا درست نہیں۔یہ ایسا نمونہ تھا کہ جو دنیا کی تاریخ میں اور کسی بادشاہت نے نہیں دکھایا۔بادشاہ جب کسی علاقے سے ہٹتے ہیں تو بجائے وصول کردہ ٹیکس وغیر ہ واپس کرنے کے ان علاقوں کو اور بھی لوٹتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ اب تو یہ علاقے دوسرے کے ہاتھ میں جانے والے ہیں ہم یہاں سے جتنا فائدہ اٹھا سکتے ہیں اٹھا لیں۔پھر چونکہ انہوں نے وہاں رہنا نہیں ہو تا اس لیے بد نامی کا بھی کوئی خوف ان کو نہیں ہو تا اور اگر کوئی اعلیٰ درجہ کی منظم حکومت ہو تو وہ زیادہ سے زیادہ یہ کرتی ہے کہ خاموشی سے فوجوں کو پیچھے ہٹا دیتی ہے اور زیادہ لوٹ مار نہیں کرنے دیتی لیکن اسلامی لشکر نے جو نمونہ دکھایا جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے صرف حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ہی نظر آتا ہے۔بلکہ افسوس ہے کہ بعد کے زمانہ کو بھی اگر شامل کر لیا جائے تو اس کی کوئی اور مثال دنیا میں نہیں ملتی کہ کسی فاتح نے کوئی علاقہ چھوڑا ہو تو اس علاقہ کے لوگوں سے وصول کردہ ٹیکس اور جزیے اور مالیے واپس کر دیئے ہوں۔اس کا عیسائیوں پر اتنا اثر ہوا کہ باوجودیکہ ان کی ہم مذہب فوجیں آگے بڑھ رہی تھیں، حملہ آور ان کی اپنی قوم کے جرنیلوں، کر نیلوں اور افسروں پر مشتمل تھے اور سپاہی ان کے بھائی بند تھے اور باوجود اس کے کہ اس جنگ کو عیسائیوں کے لیے مذہبی جنگ بنادیا گیا تھا اور باوجود اس کے کہ عیسائیوں کا مذہبی مرکز جو ان کے قبضہ سے نکل کر مسلمانوں کے ہاتھ میں جا چکا تھا اب اس کی آزادی کے خواب دیکھے جارہے تھے۔عیسائی مرد اور عور تیں گھروں سے باہر نکل نکل کر روتے اور دعائیں کرتے تھے کہ مسلمان پھر واپس آئیں۔حضرت مصلح موعود کو تاریخ پر بڑا عبور تھا۔ان کا یہی خیال ہے کہ حضرت عمرؓ سے پوچھ کے ہی واپسی ہوئی تھی اور پھر یہ ٹیکس وغیرہ جو تھاوہ واپس کیا گیا تھا۔حضرت مصلح موعودؓ حضرت عکرمہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ”حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جنگ یر موک میں جب رسول کریم صلی علی یم کے صحابہ کی جانیں خطرہ میں تھیں اور مسلمان کثرت سے مارے جا رہے تھے تو اسلامی کمانڈر انچیف حضرت ابو عبیدہ بن الجراح نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ کچھ ایسے بہادر نکل آئیں جو تعداد میں اگر چہ تھوڑے ہوں لیکن وہ سر دھڑ کی بازی لگا کر رومی فوج پر رعب ڈال 316"