اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 176
حاب بدر جلد 3 176 حضرت عمر بن خطاب موقع جنگ کی ضرورتوں کے لیے اس لحاظ سے مناسب تھا کہ عرب کی سر حد بہ نسبت اور تمام مقامات کے یہاں سے قریب تھی اور پشت پر عرب کی سرحد تک کھلا میدان تھا جس سے یہ موقع حاصل تھا کہ ضرورت پر جہاں تک چاہیں پیچھے ہٹتے جائیں۔حضرت عمر نے سعید بن عامر کے ساتھ جو فوج روانہ کی تھی وہ ابھی نہیں پہنچی تھی۔ادھر رومیوں کی آمد اور ان کے سامان کا حال سن کر مسلمان گھبر ائے جاتے تھے۔ابوعبیدہ نے حضرت عمرؓ کے پاس ایک اور قاصد دوڑایا اور لکھا کہ رومی بحروبر سے اُبل پڑے ہیں اور جوش کا یہ حال ہے کہ فوج جس راہ سے گزرتی ہے راہب اور خانقاہ نشین جنہوں نے کبھی خلوت سے قدم باہر نہیں نکالا وہ بھی نکل نکل کر فوج کے ساتھ ہوتے جاتے ہیں۔عمر تم کو سلام کہتا ہے۔۔۔۔۔یہ خط پہنچا تو حضرت عمر نے مہاجرین اور انصار کو جمع کیا اور خط پڑھ کر سنایا۔تمام صحابہ بے اختیار رو پڑے اور نہایت جوش کے ساتھ پکار کر کہا کہ امیر المومنین ! خدا کے لیے ہمیں اجازت دیں کہ ہم اپنے بھائیوں پر جا کر شار ہو جائیں۔خدا نخواستہ ان کا بال بھی بیکا ہوا تو پھر جینا بے سود ہے۔مهاجرین و انصار کا جوش بڑھتا جاتا تھا یہاں تک کہ عبد الرحمن بن عوف نے کہا کہ امیر المومنین ! آپ خود سپہ سالار بنیں اور ہمیں ساتھ لے کر چلیں لیکن اور صحابہ نے اس رائے سے اختلاف کیا اور رائے یہ ٹھہری کہ اور امدادی فوجیں بھیجی جائیں۔حضرت عمرؓ نے قاصد سے دریافت کیا کہ دشمن کہاں تک آ گئے ہیں ؟ اس نے کہا کہ یرموک سے تین چار منزل کا فاصلہ رہ گیا ہے۔حضرت عمر نہایت غمزدہ ہوئے اور فرمایا کہ افسوس اب کیا ہو سکتا ہے۔اتنے عرصہ میں کیونکر مدد پہنچ سکتی ہے ؟ ابوعبیدہ کے نام نہایت پُر تاثیر الفاظ میں ایک خط لکھا اور قاصد سے کہا کہ خود ایک ایک صف میں جا کر یہ خط سنانا اور زبانی کہنا کہ عمر تم لوگوں کو سلام کہتا ہے اور کہتے ہیں کہ اے اہل اسلام ! بے جگری سے لڑو اور اپنے شمنوں پر شیروں کی طرح جھپٹو اور تلواروں سے ان کی کھوپڑیوں کو کاٹ ڈالو اور چاہیے کہ وہ لوگ تمہارے نزدیک چیونٹیوں سے بھی حقیر ہوں۔ان کی کثرت تم لوگوں کو خوفزدہ نہ کرے اور تم میں سے جو ابھی تم سے نہیں ملے ان کی وجہ سے پریشان نہ ہونا۔یہ عجیب حسن اتفاق ہے کہ جس دن قاصد ابوعبیدہ کے پاس آیا اسی دن سعید بن عامر بھی ہزار آدمی کے ساتھ پہنچ گئے۔مسلمانوں کو نہایت تقویت ہوئی اور انہوں نے نہایت استقلال کے ساتھ لڑائی کی تیاریاں شروع کیں۔معاذ بن جبل موجو بڑے رتبے کے صحابی تھے میمنہ پر مقرر کیا۔قبات بن اشیم کو میسرہ اور ہاشم بن عُتبہ کو پیدل فوج کی افسری دی۔اپنے رکاب کی فوج کے چار حصے کیے۔ایک کو اپنی رکاب میں رکھا باقی پر قیس بن هُبَيْرَه، مَيْسَرَه بن مَسْرُوق، عمر و بن طفیل کو مقرر کیا۔یہ تینوں بہادر تمام عرب میں انتخاب تھے یعنی بہت بہادر کہلائے جاتے تھے اور اس وجہ سے فارس العرب“ کہلاتے تھے۔رومی بھی بڑے