اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 175 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 175

اصحاب بدر جلد 3 175 حضرت عمر بن خطاب رض وہاں خالد موجود ہیں اور عرب کی سرحد قریب ہے۔یہ ارادہ مصمم ہو چکا تو حضرت ابو عبیدہ نے حبیب بن مسلمہ کو جو افسر خزانہ تھے بلا کر کہا کہ عیسائیوں سے جو جزیہ یا خراج لیا جاتا ہے ، جو بھی ٹیکس وصول کیا جاتا ہے ، اس وقت ہماری حالت ایسی نازک ہے کہ ہم ان کی حفاظت کا ذمہ نہیں اٹھا سکتے۔یہ تو اس لیے تھا کہ ان کی بہتری کے لیے ان کی حفاظت کے لیے کام ہو گا لیکن وہ ہم کر نہیں سکتے۔اس لیے جو کچھ ان سے وصول ہوا ہے سب ان کو واپس دے دو اور ان سے کہہ دو کہ ہم کو تمہارے ساتھ جو تعلق تھا اب بھی ہے لیکن چونکہ اس وقت تمہاری حفاظت کے ہم ذمہ دار نہیں ہو سکتے اس لیے جزیہ جو حفاظت کا معاوضہ ہے تمہیں واپس کیا جاتا ہے۔چنانچہ کئی لاکھ کی رقم جو وصول ہوئی تھی کل واپس کر دی گئی۔عیسائیوں پر اس واقعہ کا اس قدر اثر ہوا کہ وہ روتے جاتے تھے اور جوش کے ساتھ کہتے جاتے تھے کہ خدا تم کو واپس لائے۔یہودیوں پر اس سے بھی زیادہ اثر ہوا۔انہوں نے کہا کہ تورات کی قسم ! جب تک ہم زندہ ہیں قیصر حمص پر قبضہ نہیں کر سکتا۔یہ کہہ کر شہر پناہ کے دروازے بند کر دیے اور ہر جگہ چو کی پہرہ بٹھا دیا۔ابوعبیدہ نے صرف حمص والوں کے ساتھ یہ برتاؤ نہیں کیا بلکہ جس قدر اضلاع فتح ہو چکے تھے ہر جگہ لکھ بھیجا کہ جزیہ کی جس قدر رقم وصول ہوئی ہے واپس کر دی جائے۔غرض ابو عبیدہ دمشق کو روانہ ہوئے اور ان تمام حالات سے حضرت عمرؓ کو اطلاع دی۔رض حضرت عمر یہ سن کر کہ مسلمان رومیوں کے ڈر سے حمص چلے آئے ہیں نہایت رنجیدہ ہوئے لیکن جب ان کو یہ معلوم ہوا کہ گل فوج اور افسران فوج نے یہی فیصلہ کیا ہے تو فی الجملہ تسلی ہوئی اور فرمایا کہ خدا نے کسی مصلحت سے تمام مسلمانوں کو اس رائے پر متفق کیا ہو گا۔یہ بھی حوالے ملتے ہیں کہ پہلے حضرت عمر سے پوچھا گیا تھا اور حضرت عمر نے ہی فرمایا تھا کہ اگر تم حفاظت نہیں کر سکتے تو ان کا سب کچھ ، جو کچھ بھی جزیہ وغیرہ لیا ہے واپس کرو۔ابو عبیدہ کو حضرت عمرؓ نے جواب لکھا کہ میں مدد کے لیے سعید بن عامر کو بھیجتا ہوں لیکن فتح و شکست فوج کی قلت و کثرت پر نہیں ہوا کرتی۔ابوعبیدہ نے دمشق پہنچ کر تمام افسروں کو جمع کیا اور ان سے مشاورت کی۔یزید بن ابی سفیان، شرحبيل بن حَسَنَه، معاذ بن جبل سب نے مختلف رائیں دیں۔اسی اثنا میں عمرو بن عاص کا قاصد خط لے کر پہنچا جس کا یہ مضمون تھا کہ اردن کے اضلاع میں عام بغاوت پھیل گئی ہے اور رومیوں کی آمد آمد نے سخت تہلکہ ڈال دیا ہے اور حمص کو چھوڑ کر چلے آنا نہایت بے رعبی کا سبب ہوا ہے۔ابوعبیدہ نے جواب میں لکھا کہ حمص کو ہم نے ڈر کر نہیں چھوڑا بلکہ مقصود یہ تھا کہ دشمن محفوظ مقامات سے نکل آئے اور اسلامی فوجیں جو جابجا پھیلی ہوئی ہیں یکجا ہو جائیں اور خط میں یہ بھی لکھا کہ تم اپنی جگہ سے نہ ٹلو۔میں وہیں آکر تم سے ملتا ہوں۔دوسرے دن ابو عبیدہ و مشق سے روانہ ہو گئے اور اردن کی حدود میں پر موک پہنچ کر قیام کیا۔یر موک شام کے نواح میں نشیبی وادی تھی جہاں دریائے اردن بہتا تھا۔عمر و بن عاص بھی یہیں آکر ملے۔